قومی زبان

وجدان

یہ کھیل گڑیوں کے ریت محلوں کے پیڑ پتھر پہ نام لکھنے کے تیز سبقت کے پیش و پس کے جو سوچیے تو ہنسی بھی آئے مدار حسرت بکھر رہا ہے بدن کا کانسا پگھل رہا ہے یہ روح بے باک پھر رہی ہے تمام تر جستجو کی دھڑکن تمام تر آرزو کا ایندھن کہیں کسی سے الجھ رہی ہے تو اپنی ساری تپش میں اس کو جلا رہی ...

مزید پڑھیے

ہم سفری

دو صدیاں کیسے بات کریں سکھیاں بن جائیں ساتھ چلیں آکاش سے پھیلی دھرتی تک شیشے کی اک دیوار کھنچی کیا رمز ہے کیسا لہجہ ہے کیا خبریں ہیں کیا قصہ ہے اب ہاتھ ہلائیں مسکائیں سرگوشی ہو یا چلائیں اب سر ٹکرائیں پھولوں کی سوغات لیے کیا بات بنے دو صدیاں کیسے بات کریں انکار سراسر نا ...

مزید پڑھیے

پاگل

تو جو ہمک کر میری گود میں چڑھ جاتی ہے راتوں کو بے موقعہ نیند اڑا دیتی ہے تیری خاطر شعرا کے بازاروں تک میں ہو آتا ہوں پھر بے سمجھی واہ واہ کے آوازے سے گھائل ہو کر اکثر معافی مانگ چکا ہوں اے داد و تحسین کی خواہش ہیروں کا تو کام ہے آنکھیں خیرہ کرنا پر ان ہیروں کی تخلیق میں اور پہچان کے ...

مزید پڑھیے

یہ کہاں جائیں گے

معجزہ تھا عجب آہنی چھنچھناہٹ سے زنجیر خود اپنے قدموں میں آ کر گری بھاری بھرکم دہانے کھلے اور چرخ چوں کی فریاد کے ساتھ پٹری پر ڈبے سرکنے لگے صبح کی دودھیا چھاؤں میں آنکھ ملتے ہوئے سب یہ حیرت زدہ دیکھتے تھے کوئی کھینچنے والا انجن نہ تھا اور ترائی اترتی گئی ان کی رفتار بڑھتی ...

مزید پڑھیے

خرید و فروخت

انہیں بیچنا تو ضروری ہے بازار کے موڑ پر وقفہ وقفہ صدا کیمیا مل گیا کیمیا مل گیا وقفہ وقفہ صدا ان صداؤں کا آہنگ مسجد شوالہ صحیفے صحیفوں کا آہنگ نغمات نغموں کا آہنگ نغمات نغموں کا آہنگ طبل و علم فوج آہنگ پر مارچ کرتی ہوئی انہیں بیچنا تو ضروری ہے ورنہ خیالات نرگس زدہ اپنے ماحول کے ...

مزید پڑھیے

آگ کی پیاس

میں آگ بھی تھا اور پیاسا بھی تو موم تھی اور گنگا جل بھی میں لپٹ لپٹ کر بھڑک بھڑک کر پیاس بجھاتی آنکھوں میں بجھ جاتا تھا وہ آنکھیں سپنے والی سی سپنا جس میں اک بستی تھی بستی کا چھوٹا سا پل تھا سوئے سوئے دریا کے سنگ پیڑوں کا میلوں سایہ تھا پل کے نیچے اکثر گھنٹوں اک چاند پگھلتے دیکھا ...

مزید پڑھیے

روشنی کے بوجھ

ہوا اڑائے ریشم بادل کے پردے چھن چھن کر پیڑوں سے اتریں روشنیاں جیسے اچانک بچوں کو آ جائے ہنسی جنگل تیرہ بخت نہیں چھن چھن کر چھتنار سے برسو روشنیو پودوں کی رگ رگ میں تیرو روشنیو جنگل کے سینے کے کونوں‌‌ کھدروں میں دبے ہوئے اسرار بہت خواب گزیدہ نشے میں سرشار بہت نیند نگر کو تجنے پر ...

مزید پڑھیے

کوئی دعا نہ کوئی چارہ گر سنبھالے گا

کوئی دعا نہ کوئی چارہ گر سنبھالے گا کہ اب یہ زخم ہی میرا جگر سنبھالے گا وہ عکس جس سے نہیں کوئی آئنہ محفوظ درون آب وہی چشم تر سنبھالے گا جو برقرار بہ نوع دگر ہے ٹوٹ کے بھی وہ سلسلہ ہی ہمیں عمر بھر سنبھالے گا وہ جس کی راہ میں گمراہ ہو گیا ہوں میں وہی خدا مرا سمت سفر سنبھالے گا خرد ...

مزید پڑھیے

یوں تہ شبنم چمن رکھنا بھی کیا

یوں تہ شبنم چمن رکھنا بھی کیا خواہشوں کو بے سخن رکھنا بھی کیا لمس کی تعبیر سے نا آشنا خواب کے جیسا بدن رکھنا بھی کیا گھر کی دیواریں نہ دیں جس کا پتہ ایسی دولت ایسا دھن رکھنا بھی کیا بنتے بنتے بھی بگڑ جاتی ہے بات اتنی لہجے میں چبھن رکھنا بھی کیا زندگی جینے کی ضد اپنی جگہ باندھ ...

مزید پڑھیے

ذکر تا فکر نظر تک محدود

ذکر تا فکر نظر تک محدود جستجو ساری خبر تک محدود کر دیا ہم نے ہی نادانی میں معجزہ شق قمر تک محدود کیا بجھا پائے گی نمرود کی آگ وہ عبادت جو ہے ڈر تک محدود کچھ نہیں ذات کے نوحے کے سوا اس ادب میں جو ہے شر تک محدود شیخ کی ساری کمائی افسوس رہ گئی لعل و گہر تک محدود آج بھی ہیں مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5752 سے 6203