قومی زبان

مجھے معلوم ہے میں آج کیا ہوں

مجھے معلوم ہے میں آج کیا ہوں خدا ہوں پر ابھی سویا ہوا ہوں سر محفل میں یوں خاموش رہ کر سبھی لوگوں کے تیور دیکھتا ہوں مرا مذہب فقط انسانیت ہے جسے ہر حال میں میں پوجتا ہوں نہیں اس راستے کا کوئی رہبر کہ جس رستے پہ اب میں چل پڑا ہوں مجھے سب دیکھ کر حیران کیوں ہیں میں قاتل ہوں کوئی ...

مزید پڑھیے

ایک خواہش ہے بس زمانے کی

ایک خواہش ہے بس زمانے کی تیری آنکھوں میں ڈوب جانے کی ساتھ جب تم نبھا نہیں پاتے کیا ضرورت تھی دل لگانے کی آج جب آس چھوڑ دی میں نے تم کو فرصت ملی ہے آنے کی تیری ہر چال میں سمجھتا ہوں تجھ کو عادت ہے دل دکھانے کی ہم تو خانہ بدوش ہیں لوگو ہم سے مت پوچھئے ٹھکانے کی

مزید پڑھیے

وہ مجھے آسرا تو کیا دے گا

وہ مجھے آسرا تو کیا دے گا چلتا دیکھے گا تو گرا دے گا قرض تو تیرا وہ چکا دے گا لیکن احسان میں دبا دے گا حوصلہ ہوں گے جب بلند ترے تب سمندر بھی راستہ دے گا ایک دن تیرے جسم کی رنگت وقت ڈھلتا ہوا مٹا دے گا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھا ہے کھانے کو کیا تجھے خدا دے گا لاکھ گالی فقیر کو دے ...

مزید پڑھیے

راہ بھٹکا ہوا انسان نظر آتا ہے

راہ بھٹکا ہوا انسان نظر آتا ہے تیری آنکھوں میں تو طوفان نظر آتا ہے پاس سے دیکھو تو معلوم پڑے گا تم کو کام بس دور سے آسان نظر آتا ہے اس کو معلوم نہیں اپنے وطن کی سرحد یہ پرندہ ابھی نادان نظر آتا ہے بس وحی بھومی پے انسان ہے کہنے لائق جس کو ہر شخص میں بھگوان نظر آتا ہے آئی جس روز ...

مزید پڑھیے

تیرا افسانا چھیڑ کر کوئی

تیرا افسانا چھیڑ کر کوئی آج جاگے گا رات بھر کوئی ایسے وہ دل کو توڑ دیتا ہے دل نہ ہو جیسے ہو ثمر کوئی رات ہوتے ہی میرے پہلو میں ٹوٹ کر جاتا ہے بکھر کوئی چند لمحوں میں توڑ سب رشتے دے گیا درد عمر بھر کوئی عشق کرتا نہیں ہوں میں تم سے کہہ کے پچھتایا عمر بھر کوئی میں وفا کر کے با وفا ...

مزید پڑھیے

آئنہ سامنے رکھا ہوگا

آئنہ سامنے رکھا ہوگا اس کا چہرا مگر جھکا ہوگا کیسے پالا ہے بیٹے کو میں نے بھول جائے گا جب بڑا ہوگا شاعری جام اور تنہائی ہجر کی شب میں اور کیا ہوگا ایک عرصے سے سنتے آئے ہیں جلد ہی دیش کا بھلا ہوگا تھا نہ معلوم ساتھ رہ کر بھی درمیان اتنا فاصلہ ہوگا یہ محبت کا کھیل ہے جاناں اس کی ...

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں میں جتنے پالے تھے

خواب آنکھوں میں جتنے پالے تھے ٹوٹ کر وہ بکھرنے والے تھے جن کو ہم نے تھا پاک دل سمجھا ان ہی لوگوں کے کرم کالے تھے سب نے بھر پیٹ کھا لیا کھانا ماں کی تھالی میں کچھ نوالے تھے حال دل کا سنا نہیں پائے منہ پہ مجبوریوں کے تالے تھے

مزید پڑھیے

چھوڑ ان کو نہ جانے کدھر میں گیا

چھوڑ ان کو نہ جانے کدھر میں گیا دور تک تھا نہ کچھ جس ڈگر میں گیا اپنے ہاتھوں سے اس نے جو مجھ کو چھوا دیکھ تجھ سے زیادہ نکھر میں گیا سوچ کر بس یہی اب ملے گا خدا ہر گلی اور بستی نگر میں گیا دیکھ کر میرے حالات دے گی وو رو ملنے واپس اگر ماں سے گھر میں گیا

مزید پڑھیے

نیا سال

نہ ہم بدلے نہ تم بدلے نہ چاند ستارے ہی بدلے سورج بھی ابھی ہے پہلے سا موسم بھی وہی ہے سردی کا فصلیں بھی وہی ہیں سرسوں کی وہی بوڑھی دادی برسوں کی دریا میں ذرا اپھان ہے کم مٹی بھی نہیں پہلے سی نم پیڑوں سے بہاریں غائب ہیں پودوں کی نزاکت بھی ہے گم اک تاریخ بدلنے کو کیول نیا سال آیا کہتے ...

مزید پڑھیے

سکوت

رات پھیلتی گئی ہے دور دور جنگلوں میں راستہ ٹٹولتی ہوا کی سائیں سائیں جیسے سانس رک رہی ہو اوس سوگوار زار زار رو رہی ہو لالہ زار میں گلوں کی پتیاں بکھر کے راکھ ہو رہی ہوں آخری امید ٹمٹما کے بجھ گئی ہے وقت بہہ چکا ہے تھم گیا ہے سائیں سائیں رک گئی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5750 سے 6203