قومی زبان

ایک واقعہ

خوش بو کا اک جھونکا آیا اس نے مڑ کر دیکھا ننگے بازو ابھرا سینہ گوری سڈول تھرکتی رانیں منی سکرٹ، چیختا جسم گول مچلتی رانیں اس نے غور سے دیکھا لبوں سے نکلی سسکاری سی سگریٹ اک سلگایا الٹی سمت کو بھاگتے کھیتوں اور کھمبوں کو دیکھا سب بے کار ہے کوئی بولا چیخیں، لذت، نشہ نفرت، لذت، ...

مزید پڑھیے

کیوں اسیر گیسوئے خم دار قاتل ہو گیا

کیوں اسیر گیسوئے خم دار قاتل ہو گیا ہائے کیا بیٹھے بٹھائے تجھ کو اے دل ہو گیا کوئی نالاں کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا اس کے اٹھتے ہی دگر گوں رنگ محفل ہو گیا انتظار اس گل کا اس درجہ کیا گل زار میں نور آخر دیدۂ نرگس کا زائل ہو گیا اس نے تلواریں لگائیں ایسے کچھ انداز سے دل کا ہر ...

مزید پڑھیے

جوش وحشت میں مسلم ہو گیا اسلام عشق

جوش وحشت میں مسلم ہو گیا اسلام عشق کوچہ گردی سے مری پورا ہوا احرام عشق میرے مرنے سے کھلا حال محبت خلق پر سنگ مرقد بن گیا آئینہ انجام عشق یہ صلہ پایا وفا کا حسن کی سرکار سے چہرۂ عاشق کی زردی ہے زر انعام عشق پہلے تھا رخ کا تصور اب ہے گیسو کا خیال وو تھی صبح عشق گویا اور یہ ہے شام ...

مزید پڑھیے

ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے

ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے اور ان کی اداؤں میں مزا اور ہی کچھ ہے یہ دل ہے مگر دل میں بسا اور ہی کچھ ہے دل آئینہ ہے جلوہ نما اور ہی کچھ ہے ہم آپ کی محفل میں نہ آنے کو نہ آتے کچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے بے خود بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں دیکھنے والے ان مست نگاہوں کی ادا ...

مزید پڑھیے

گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئی

گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئی کھلا ہوا تھا دریچہ صبا نہیں آئی ہوائے دشت ابھی تو جنوں کا موسم تھا کہاں تھے ہم تری آواز پا نہیں آئی ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی ہم اتنی دور کہاں تھے کہ پھر پلٹ نہ سکیں سواد شہر سے کوئی صدا نہیں آئی سنا ہے ...

مزید پڑھیے

دیپ تھا یا تارا کیا جانے

دیپ تھا یا تارا کیا جانے دل میں کیوں ڈوبا کیا جانے گل پر کیا کچھ بیت گئی ہے البیلا جھونکا کیا جانے آس کی میلی چادر اوڑھے وہ بھی تھا مجھ سا کیا جانے ریت بھی اپنی رت بھی اپنی دل رسم دنیا کیا جانے انگلی تھام کے چلنے والا نگری کا رستا کیا جانے کتنے موڑ ابھی باقی ہیں تم جانو سایا ...

مزید پڑھیے

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا دعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جانا تمہیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیں محبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھی ہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا اگر سچ اتنا ظالم ہے تو ہم سے جھوٹ ہی ...

مزید پڑھیے

عالم ہی اور تھا جو شناسائیوں میں تھا

عالم ہی اور تھا جو شناسائیوں میں تھا جو دیپ تھا نگاہ کی پرچھائیوں میں تھا وہ بے پناہ خوف جو تنہائیوں میں تھا دل کی تمام انجمن آرائیوں میں تھا اک لمحۂ فسوں نے جلایا تھا جو دیا پھر عمر بھر خیال کی رعنائیوں میں تھا اک خواب گوں سی دھوپ تھی زخموں کی آنچ میں اک سائباں سا درد کی ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے کیا راہ بدلنے کا ...

مزید پڑھیے

ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی

ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی یادوں کے بھنور میں چل رہی تھی سانچے میں خبر کے ڈھل رہی تھی اک خواب کی لو سے جل رہی تھی شبنم سی لگی جو دیکھنے میں پتھر کی طرح پگھل رہی تھی روداد سفر کی پوچھتے ہو میں خواب میں جیسے چل رہی تھی کیفیت انتظار پیہم ہے آج وہی جو کل رہی تھی تھی حرف دعا سی یاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5727 سے 6203