قومی زبان

توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے

توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے دنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہے ٹھہروں تو چٹانوں سی کلیجے پہ کھڑی ہے جاؤں تو مرے ساتھ ہی دیوار چلے ہے ہر غنچہ بڑے چاؤ سے کھلتا ہے چمن میں ہر دور کا منصور سر دار چلے ہے رنگوں کی نہ خوشبو کی کمی ہے دل و جاں کو توشہ جو چلے ساتھ وہ اک خار چلے ہے دل کے ...

مزید پڑھیے

کوئی خبر بھی نہ بھیجی بہار نے آتے

کوئی خبر بھی نہ بھیجی بہار نے آتے کہ ہم بھی قسمت مژگاں سنوارنے آتے پھر آرزو سے تقاضائے رسم و رہ ہوتا نگہ پہ قرض تھے جتنے اتارنے آتے یہ زندگی ہے ہر اک پیرہن میں سجتی ہے نہیں تھی جیت نصیبوں میں ہارنے آتے کوئی شرر کوئی خوشبو کہ دل نہ بجھ جائے کسی بھی نام سے خود کو پکارنے آتے ابھی ...

مزید پڑھیے

روز و شب کی کوئی صورت تو بنا کر رکھوں

روز و شب کی کوئی صورت تو بنا کر رکھوں کسی لہجے کسی آہٹ کو سجا کر رکھوں کوئی آنسو سا اجالا کوئی مہتاب سی یاد یہ خزینے ہیں انہیں سب سے چھپا کر رکھوں شور اتنا ہے کہ کچھ کہہ نہ سکوں گی اس سے اب یہ سوچا ہے نگاہوں کو دبا کر رکھوں آندھیاں ہار گئیں جب تو خیال آیا ہے پھول کو تند ہواؤں سے ...

مزید پڑھیے

کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا

کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا مری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہا مرے روز و شب بھی عجیب تھے نہ شمار تھا نہ حساب تھا کبھی عمر بھر کی خبر نہ تھی کبھی ایک پل کو صدی کہا مجھے جانتا بھی کوئی نہ تھا مرے بے نیاز ترے سوا نہ شکست دل نہ شکست جاں کہ تری خوشی کو خوشی ...

مزید پڑھیے

وہی نا صبورئ آرزو وہی نقش پا وہی جادہ ہے

وہی نا صبورئ آرزو وہی نقش پا وہی جادہ ہے کوئی سنگ رہ کو خبر کرو اسی آستاں کا ارادہ ہے وہی اشک خوں کے گلاب ہیں وہی خار خار ہے پیرہن نہ کرم کی آس بجھی ابھی نہ ستم کی دھوپ زیادہ ہے ابھی روشنی کی لکیر سی سر رہ گزار ہے جاں بہ لب کسی دل کی آس مٹی نہیں کہیں اک دریچہ کشادہ ہے تن زخم زخم کو ...

مزید پڑھیے

نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں

نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں میں بجھتے بجھتے بھی پیراہن شرر میں رہوں میں خود ہی روز تمنا میں آپ شام فراق عجب نہیں جو اکیلی بھرے نگر میں رہوں سلگ اٹھی تو اندھیروں کا رکھ لیا ہے بھرم جو روشنی ہوں تو کیوں چشم نوحہ گر میں رہوں تمام عمر سفر میں گزار دوں اپنی تمام عمر تمنائے رہ ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں روپ صبح کی پہلی کرن سا ہے

آنکھوں میں روپ صبح کی پہلی کرن سا ہے احوال جی کا زلف شکن در شکن سا ہے کچھ یادگار اپنی مگر چھوڑ کر گئیں جاتی رتوں کا حال دلوں کی لگن سا ہے آنکھیں برس گئیں تو نکھار اور آ گیا یادوں کا رنگ بھی تو گل و یاسمن سا ہے کس موڑ پر ہیں آج ہم اے رہ گزار ناز اب درد کا مزاج کسی ہم سخن سا ہے ہے اب ...

مزید پڑھیے

اعتذار

تم سمجھتی ہو یہ گلدان میں ہنستے ہوئے پھول میری افسردگئ دل کو مٹا ہی دیں گے یہ حسیں پھول کہ ہیں جان‌‌ گلستان بہار میرے سوئے ہوئے نغموں کو جگا ہی دیں گے تم نے دیکھی ہیں دمکتی ہوئی شمعیں لیکن تم نے دیکھے نہیں بجھتے ہوئے دیپک ہمدم وہی دیپک جو نگاہوں کا سہارا پا کر ایک لمحے کے لئے ...

مزید پڑھیے

ساز سخن بہانہ ہے

غبار صبح و شام میں تجھے تو کیا میں اپنا عکس دیکھ لوں میں اپنا اسم سوچ لوں نہیں مری مجال بھی کہ لڑکھڑا کے رہ گیا مرا ہر اک سوال بھی مرا ہر اک خیال بھی میں بھی بے قرار و خستہ تن بس اک شرار عشق میرا پیرہن مرا نصیب ایک حرف آرزو وہ ایک حرف آرزو تمام عمر سو طرح لکھوں مرا وجود اک نگاہ بے ...

مزید پڑھیے

گم شدہ

چلو پھر خود کو ڈھونڈیں ذات کے نظارے کی کوشش کریں دیکھو وہ بھورا دشت امکاں دور تک پھیلا ہوا ہے سامنے حد نظر تک گہری تاریکی کی ناگن رقص فرما ہے بکھرتی ریت پر کوئی بھی نقش پا نہیں ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5726 سے 6203