قومی زبان

آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا

آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا اچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا دامان چاک چاک گلوں کو بہانہ تھا دل کا جو رنگ تھا وہ نظر سے چھپا نہ تھا رنگ شفق کی دھوپ کھلی تھی قدم قدم مقتل میں صبح و شام کا منظر جدا نہ تھا کیا بوجھ تھا کہ جس کو اٹھائے ہوئے تھے لوگ مڑ کر کسی کی سمت کوئی دیکھتا ...

مزید پڑھیے

خود حجابوں سا خود جمال سا تھا

خود حجابوں سا خود جمال سا تھا دل کا عالم بھی بے مثال سا تھا عکس میرا بھی آئنوں میں نہیں وہ بھی کیفیت خیال سا تھا دشت میں سامنے تھا خیمۂ گل دوریوں میں عجب کمال سا تھا بے سبب تو نہیں تھا آنکھوں میں ایک موسم کہ لا زوال سا تھا خوف اندھیروں کا ڈر اجالوں سے سانحہ تھا تو حسب حال سا ...

مزید پڑھیے

یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں

یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں یہ حال تھا کہ دل کو اسم آرزو ملا نہیں ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھے وہ رہ گزر کوئی نہ تھی کہ جس پہ تو ملا نہیں تمام عمر کی مسافتوں کے بعد ہی کھلا کبھی کبھی وہ پاس تھا جو چار سو ملا نہیں وہ جیسے اک خیال تھا جو زندگی پہ چھا ...

مزید پڑھیے

خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی

خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی ابتدا رنج کی کہاں سے ہوئی کوئی طائر ادھر نہیں آتا کیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی موسموں پر یقین کیوں چھوڑا بد گمانی تو سائباں سے ہوئی بے نہایت سمندروں کا سفر گفتگو صرف بادباں سے ہوئی یہ جو الجھی ہوئی کہانی ہے معتبر حرف رایگاں سے ہوئی دل کی آبادیوں کو ...

مزید پڑھیے

دو کا پہاڑا

ذہن میں اپنے علم بھریں دو کا پہاڑا یاد کریں دو اکم دو دو دونا چار سب سے الفت سب سے پیار دو تیا چھ اور دو چوکے آٹھ پڑھ لکھ کر تم کرنا ٹھاٹ دو پنجے دس دو چھکے بارہ بھارت خوشیوں کا گہوارہ دو ست چودہ دو اٹھے سولہ یاد کرو اے منا راجہ دو نم اٹھارہ دو دہام بیس ختم پہاڑا لاؤ فیس

مزید پڑھیے

دیوالی

دیوالی کے دیپ جلائیں آ جاؤ روشن روشن گیت سنائیں آ جاؤ گوشے گوشے میں تزئین و زیبائی صاف کریں ہر دل کی میلی انگنائی فطرت نے بھی مستی میں لی انگڑائی خوشیوں کا سنگیت سنائیں آ جاؤ دیوالی کے دیپ جلائیں آ جاؤ روشن روشن گیت سنائیں آ جاؤ آشاؤں کی منزل پر سب کامن ہو نفرت جائے پیار کی جیوتی ...

مزید پڑھیے

ہولی

لو آیا ہولی کا تیوہار خوشی میں جھوم اٹھا سنسار وہ دیکھو ہولکا جلتی جائے جہاں میں سچائی رہ جائے لو جیتا اب پرہلاد کمار ہوئی ہرناکشیپ کی ہار جلا اب جھوٹ بچا ہے سانچ نہیں ہے سانچ کو کوئی آنچ سبھی اب ہولی گاتے ہیں خوشی سے ناچتے جاتے ہیں بچھا ہے روپ رنگ کا جال مہکتے عنبر عود گلال خوشی ...

مزید پڑھیے

نغمۂ وطن

تجھ پہ قربان ہو میری جان اور تن میرے ہندوستان میرے پیارے وطن خوش نما وادیاں تیری رشک چمن خوشبوؤں سے معطر ترا پیرہن ہر نظارے میں رعنائی اور بانکپن تو بہاروں کی ہے اک حسیں انجمن میرے ہندوستاں میرے پیارے وطن تیری ندیوں میں نغمات اور قہقہے پیاری فصلیں تری پیارے موسم ترے کوئلوں ...

مزید پڑھیے

نہ جانے ربط مسرت ہے کس قدر غم سے

نہ جانے ربط مسرت ہے کس قدر غم سے خبر خوشی کو ملی بھی تو چشم پر نم سے زبان کھولیے خلوت میں بے حجابانہ چھپائی جاتی ہے کب دل کی بات محرم سے کسی کی یاد میں کیا کیا نہ ہم پہ بیت گئی جہاں نے دی تھی جو فرصت ذرا ہمیں غم سے شعور شانہ کشی دیکھیے انہیں کب آئے مزاج زیست ہے وابستہ زلف برہم ...

مزید پڑھیے

آپ کرشمہ ساز ہوئے ہیں ہوش میں ہے دیوانہ بھی

آپ کرشمہ ساز ہوئے ہیں ہوش میں ہے دیوانہ بھی حسن ادا ہے نام اسی کا حیراں ہے پروانہ بھی وقت نے ایسی کروٹ بدلی پھول کھلے بستی اجڑی وحشت کا وہ زور بڑھا آباد ہوا ویرانہ بھی رات کی محفل آرائی کا پچھلے پہر احوال نہ پوچھ شمع کی لو بھی سرد پڑی تھی راکھ ہوا پروانہ بھی تنہائی سے گھبرا کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5728 سے 6203