آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا
آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا اچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا دامان چاک چاک گلوں کو بہانہ تھا دل کا جو رنگ تھا وہ نظر سے چھپا نہ تھا رنگ شفق کی دھوپ کھلی تھی قدم قدم مقتل میں صبح و شام کا منظر جدا نہ تھا کیا بوجھ تھا کہ جس کو اٹھائے ہوئے تھے لوگ مڑ کر کسی کی سمت کوئی دیکھتا ...