قومی زبان

مشکل ہے پتہ چلنا قصوں سے محبت کا

مشکل ہے پتہ چلنا قصوں سے محبت کا اندازہ مصیبت میں ہوتا ہے مصیبت کا ہے نزع کے عالم میں بیمار محبت کا مشکل ہے سنبھلنا اب بگڑی ہوئی حالت کا افسوس کہ ہم سو کر جاگے بھی تو کب جاگے مرنے پہ کھلا عقدہ جینے کی حقیقت کا وہ آئے ہیں خود اپنے دیوانے کو سمجھانے اے جذبۂ دل دیکھا اقبال محبت ...

مزید پڑھیے

کوہ غم سے کیا غرض فکر بتاں سے کیا غرض

کوہ غم سے کیا غرض فکر بتاں سے کیا غرض اے سبک روئی تجھے بار گراں سے کیا غرض بے نشانیٔ محبت کو نشاں سے کیا غرض اے یقین دل تجھے وہم و گماں سے کیا غرض نالۂ بے صوت خود بننے لگا مہر سکوت بے زبانی کو ہماری اب زباں سے کیا غرض جوہر ذاتی ہیں اس کی تیزیاں اے سنگ دل تیغ ابرو کو تری سنگ فساں ...

مزید پڑھیے

تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط

تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط میری سبک سری کو ہے بار گراں سے ربط دنیا کو ہم سے کام نہ دنیا سے ہم کو کام خاطر سے تیری رکھتے ہیں سارے جہاں سے ربط اڑتے ہی گرد جاتی ہے جو سوئے آسماں ہے کچھ نہ کچھ زمین کو بھی آسماں سے ربط اظہار حال کے لئے صورت سوال ہے ہے گفتگو سے کام نہ ہم کو زباں ...

مزید پڑھیے

خاموش اس طرح سے نہ جل کر دھواں اٹھا

خاموش اس طرح سے نہ جل کر دھواں اٹھا اے شمع کچھ تو بول کبھی تو زباں اٹھا بت بن کے چپکے فتنے نہ یوں میری جاں اٹھا منہ میں اگر زباں ہے تو لطف زباں اٹھا ہے کوسوں دور منزل انجام گفتگو تیزی کے ساتھ اپنے قدم اے زباں اٹھا ڈر ہے یہی کہ کشتی مضموں نہ ڈوب جائے رہ رہ کے اتنی موجیں نہ بحر ...

مزید پڑھیے

صحرا و دشت و سرو و سمن کا شریک تھا

صحرا و دشت و سرو و سمن کا شریک تھا وہ درد کی دوا تھا دکھن کا شریک تھا وہ کیا سمجھ سکے گا مرے عشق کا مقام جو روح کے سفر میں بدن کا شریک تھا دیکھی نہ ہم نے جس کی جبیں پر کبھی شکن وہ دل کی ایک ایک چبھن کا شریک تھا اک لمحے کو وہ آیا تصور میں تو لگا جیسے وہ سارے دن کی تھکن کا شریک ...

مزید پڑھیے

تو جو چاہے بھی تو صیاد نہیں ہونے کے

تو جو چاہے بھی تو صیاد نہیں ہونے کے لب ہمارے لب فریاد نہیں ہونے کے اس کے کوچہ میں میاں خاک اڑاتے کیوں ہو تم سے مجنوں تو اسے یاد نہیں ہونے کے کوئی اچھی بھی خبر کان میں آئے یا رب ایسی خبروں سے تو دل شاد نہیں ہونے کے تو رہے ہم سے خفا کتنا ہی چاہے لیکن ہم مگر تجھ سے تو ناشاد نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

اس کو جب کہ مرے انجام سے کچھ کام نہیں

اس کو جب کہ مرے انجام سے کچھ کام نہیں مجھ کو بھی عشق کے اقدام سے کچھ کام نہیں جذبۂ عشق نہ پہنچا سکا جب میں اس تک مجھ کو اب نامہ و پیغام سے کچھ کام نہیں گھر میں جس کے لیے رہتا تھا وہی اب نہ رہا اب مجھے گھر کے در و بام سے کچھ کام نہیں منتظر رہتی تھی ہر شام تری قربت کی تو نہیں جب تو ...

مزید پڑھیے

رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے

رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے وہ ایک طرفہ سہی تم سے پیار کرتے رہے ہے کیا تماشا ادھر رنجشیں ہی بڑھتی رہیں تعلقات ہمیں استوار کرتے رہے گزر گئی جو گھڑی لوٹ کر نہ آئی کبھی تلاش شام و سحر بار بار کرتے رہے تمہاری چاہ میں جتنے بھی زخم ہم کو ملے محبتوں میں ہم ان کا شمار کرتے رہے تری ...

مزید پڑھیے

خالی دنیا میں گزر کیا کرتے

خالی دنیا میں گزر کیا کرتے بن ترے عمر بسر کیا کرتے تو نے منزل ہی بدل دی اپنی ہم تیرے ساتھ سفر کیا کرتے ایک ہی خواب جنوں کافی تھا دیکھ کر بار دگر کیا کرتے اپنی ہی الجھنوں میں الجھے تھے ہم تری زلف کو سر کیا کرتے ہم جو دیوانگی میں کر گزرے عقل والے وہ ہنر کیا کرتے جو کیا تو نے خدا ...

مزید پڑھیے

ہم نے تھاما یقیں کو گماں چھوڑ کر

ہم نے تھاما یقیں کو گماں چھوڑ کر اک طرف ہو گئے درمیاں چھوڑ کر دل نہ مانا جئیں کہکشاں چھوڑ کر جا کے بستے کہاں خانداں چھوڑ کر اپنا گھر چھوڑ کر بستیاں چھوڑ کر بے اماں ہو گئے ہم اماں چھوڑ کر سو گئے بیچ میں داستاں چھوڑ کر ہم الگ ہو گئے کارواں چھوڑ کر کیسے ناداں تھے ہم سب کہاں آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5705 سے 6203