قومی زبان

فجر اٹھ خواب سیں گلشن میں جب تم نے ملی انکھیاں

فجر اٹھ خواب سیں گلشن میں جب تم نے ملی انکھیاں گئیں مند شرم سوں نرگس کی پیارے جوں کلی انکھیاں نظر بھر دیکھ تیرے آتشیں رخسار اے گل رو مرے دل کی برنگ قطرۂ شبنم گلی انکھیاں خراماں آب حیواں جوں چلا جب جان آگے سیں انجہو کا بھیس کر پیچھوں سیں پیارے بہہ چلی انکھیاں تمہیں اوروں سیں ...

مزید پڑھیے

کیا شوخ اچپلے ہیں تیرے نین ممولا

کیا شوخ اچپلے ہیں تیرے نین ممولا جن کوں نرکھ جلے ہیں سب من ہرن ممولا بر میں خیال کے بھی کیوں کر کے آ سکے دل نازک ہے جان سیتی تیرا بدن ممولا جو اک نگہ کرو تم کرتے ہو کام سو تم سیکھے کہاں سیں ہو تم یہ مکر و فن ممولا آزاد سب جگت کے آ کر غلام ہوویں جب بودلی بناوے اپنا برن ممولا قد ...

مزید پڑھیے

کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے

کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے کہ مرے دل میں آ کھٹکتی ہے زلف کی شان مکھ اوپر دیکھو کہ گویا عرش میں لٹکتی ہے اب تلک گرچہ مر گیا فرہاد روح پتھر سیں سر لٹکتی ہے دل کبابوں میں کون کچا ہے عشق کی آگ کیوں چٹکتی ہے آبروؔ جا پہنچ کہ پیاسی زلف ناگنی کی طرح بھٹکتی ہے

مزید پڑھیے

تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے

تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے کہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہے لب شیریں چھپے نہیں رنگ پاں سیں نہاں منقار طوطی میں شکر ہے کیا ہے بے خبر دونوں جہاں سیں محبت کے نشے میں کیا اثر ہے ترا مکھ دیکھ آئینا ہوا ہے تحیر دل کوں میرے اس قدر ہے تخلص آبروؔ بر جا ہے میرا ہمیشہ اشک غم سیں چشم تر ہے

مزید پڑھیے

نالاں ہوا ہے جل کر سینے میں من ہمارا

نالاں ہوا ہے جل کر سینے میں من ہمارا پنجرے میں بولتا ہے گرم آج اگن ہمارا پیری کمان کی جوں مانع نہیں اکڑ کوں ہے ضعف بیچ دونا اب بانکپن ہمارا چلتا ہے جیو جس پر جاتے ہیں اس کے پیچھے سودے میں عشق کے ہے اب یہ چلن ہمارا ملنے کی حکمتیں سب آتی ہیں ہم کو اک اک گو بوعلی ہو لونڈا کھاتا ہے ...

مزید پڑھیے

مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن

مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن آ جدائی خوب نئیں مل جا سجن بے دلوں کی عذر خواہی مان لے جو کہ ہونا تھا سو ہو گزرا سجن تم سوا ہم کوں کہیں جاگا نہیں پس لڑو مت ہم سیتی بے جا سجن مر گئے غم سیں تمہارے ہم پیا کب تلک یہ خون غم کھانا سجن جو لگے اب کاٹنے اخلاص کے کیا یہی تھا پیار کا ثمرا ...

مزید پڑھیے

یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں

یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں دل کی گرمی سیں کچھ او پہنتا نہیں تجھ کو گہنا پہنا کے میں دیکھوں حیف ہے یہ بناؤ بنتا نہیں جن نیں اس نوجوان کو برتا وہ کسی اور کو برتتا نہیں کوفت چہرے پہ شب کی ظاہر ہے کیوں کے کہیے کہ کچھ چنتا نہیں شوق نہیں مجھ کوں کچھ مشیخت کا جال مکڑی کی طرح تنتا ...

مزید پڑھیے

مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دل

مگر تم سیں ہوا ہے آشنا دل کہ ہم سیں ہو گیا ہے بے وفا دل چمن میں اوس کے قطروں کی مانند پڑے ہیں تجھ گلی میں جا بہ جا دل جو غم گزرا ہے مجھ پر عاشقی میں سو میں ہی جانتا ہوں یا مرا دل ہمارا بھی کہاتا تھا کبھی یہ سجن تم جان لو یہ ہے مرا دل کہو اب کیا کروں دانا کہ جب یوں برہ کے بھاڑ میں جا ...

مزید پڑھیے

کچھ بتانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

کچھ بتانا نہیں کہ تجھ سے کہیں دل دکھانا نہیں کہ تجھ سے کہیں یہ نئے زاویے ہیں زخموں کے دل لبھانا نہیں کہ تجھ سے کہیں اک زمانہ کہ سب کہا تجھ سے وہ زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں دل بہلتا تھا آنے جانے سے آنا جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں کار مشکل ہے جوڑنا دل کا آزمانا نہیں کہ تجھ سے ...

مزید پڑھیے

پیار کرتے رہو

سب کہ سنتے رہو پیار کرتے رہو اور کچھ نہ کہو چاہے بولیں نہ وہ لب کو کھولیں نہ وہ دل الگ بات ہے اپنے لہجہ میں بھی پیار گھولیں نہ وہ اپنا جو فرض ہے اس طرح ہو ادا جیسے ایک قرض ہے کوئی جو کچھ کہے اس کہ سنتے رہو پیار کرتے رہو اور کچ نہ کہو بے خیالی میں ہی لب اگر کھل جائیں اور زباں پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5702 سے 6203