قومی زبان

آنسو

غم کا جب کوئی منظر ہاں بہ فیض بینائی روح سے گزرتا ہے دل تلک پہنچتا ہے تب کہیں پہنچتی ہے آنکھ تک نمی دل کی جن کی خشک آنکھوں کو یہ نمی نہیں حاصل ان کے پاس سب کچھ ہے پر مجھے یقیں ہے عدیلؔ ہے مگر کمی دل کی

مزید پڑھیے

خواب

میں نے خواب دیکھا تھا پانیوں کے پار اک دن بستی اک بساؤں گا جس کے رہنے والوں میں نفرتیں نہیں ہوں گی صرف قربتیں ہوں گی بس محبتیں ہوں گی یوں ہوا کہ پھر اک دن اک اڑن کھٹولے نے لا کھڑا کیا مجھ کو میری خواب بستی میں نا شناس بستی کے خوش نما مکانوں میں قربتیں تو کم کم تھیں دوریاں زیادہ ...

مزید پڑھیے

محبت کا فقیر

ایسی تنہائی کہ گھر دشت لگے ایسا سناٹا اگر پتہ ہلے آنکھ دروازے کی آہٹ پہ جا کے رک جائے کاش آ جائے کوئی پھر محبت کا سفیر میری انجان سی چاہت کا اسیر وہ جو آ جائے تو آنگن میں ستارے آ جائیں اس مکاں میں بھی کہ جس میں تنہا رہ رہا ہوں میں کئی صدیوں سے آنے والے کے مقدر کے طفیل میری منزل ...

مزید پڑھیے

دکان دار

یہ تاجران دین ہیں خدا کے گھر مکین ہیں ہر اک خدا کے گھر پہ ان کو اپنا نام چاہئے خدا کے نام کے عوض کل انتظام چاہئے ہر ایک چاہتا ہے یہ مرا خدا خرید لو نہ کر سکے یہ تم اگر یہ تاجران پیشہ ور کریں گے تم سے یوں خطاب انتقام چاہئے میری کتاب جو کہے وہ ہی نظام چاہئے خدا کے جتنے روپ ہیں انہوں ...

مزید پڑھیے

نذر اقبال

جہاں میں مثل علی اپنا نام پیدا کر ''دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر'' سبق یہ سیکھ علی کی خموشیوں سے ذرا ''سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر'' علی وہ ہے جو غریبی میں بھی امیر رہا ''خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر'' محبتوں کے بہت جام تو نے بخشے ہیں فروغ عشق علی کا بھی جام پیدا کر تو شہر ...

مزید پڑھیے

قرب الٰہی

میں تھا قرب الٰہی سے شاد و مگن اس سے محو سخن کہ اچانک وہیں ہاں حرم کے قریب ایک معصوم بچی نے دیکھا مجھے اس کی نظروں میں تو حسرت و یاس تھی اک زمانے کی شاید وہاں پیاس تھی ماں کی ممتا کی پیاس بابا جانی کی پیاس گھر کے آنگن کی پیاس خوش لباسی کی پیاس کھانے پانی کی پیاس کھوئے بچپن کی ...

مزید پڑھیے

دعا

دن امن و آشتی کا منائیں گے اگلے سال روٹھے دلوں کو پھر سے ملائیں گے اگلے سال بارود پر جو پیسے ہوئے خرچ اس برس افلاس و بھوک ان سے مٹائیں گے اگلے سال ہر شخص جس کو دیکھ کے سمجھے ہے میرا گھر کچھ اس طرح سے گھر کو سجائیں گے اگلے سال جو ہو گیا سو ہو گیا آؤ کریں یہ عہد اپنے تمام وعدے ...

مزید پڑھیے

حرم میں

سراب جاں کو جہاں کی چمک سمجھتے رہے رہا وہ روح میں ہم جسم تک سمجھتے رہے پتا چلا کہ وہ خاک حرم کی خوشبو تھی کہ جس کو سجدے میں گل کی مہک سمجھتے رہے عجب تھی کیفیت جاں طواف کے دوراں ہم اپنے آپ کو رشک ملک سمجھتے رہے خدا کو ڈھونڈنے کا کب ہمیں خیال آیا ہم اپنی ذات کو اس کی جھلک سمجھتے ...

مزید پڑھیے

تضاد و مصلحت

کہیں اک بھول سے جنت نکل جاتی ہے قدموں سے کہیں اس کو بھلانے سے بھی صاحب کچھ نہیں ہوتا کہیں آنسو بہانے سے بصارت لوٹ آتی ہے کہیں گھر کو لٹانے سے بھی صاحب کچھ نہیں ہوتا کہیں دریا کی موجیں فیصلہ کرتی ہیں ظالم کا کہیں دریا پہ جانے سے بھی صاحب کچھ نہیں ہوتا کہیں یہ خوئے خوں ریزی ...

مزید پڑھیے

آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر

آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر خوف آ رہا ہے سایۂ دیوار دیکھ کر آنکھیں کھلی رہی ہیں مری انتظار میں آئے نہ خواب دیدۂ بیدار دیکھ کر غم کی دکان کھول کے بیٹھا ہوا تھا میں آنسو نکل پڑے ہیں خریدار دیکھ کر کیا علم تھا پھسلنے لگیں گے مرے قدم میں تو چلا تھا راہ کو ہموار دیکھ کر ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5703 سے 6203