قومی زبان

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے دل دوانہ ہو گیا ہے دیکھ یہ صبح بہار رسمسا پھولوں بسا آیا انکھوں میں نیند ہے شیر عاشق آج کے دن کیوں رقیباں پے نہ ہوں یار پایا ہے بغل میں خانۂ خورشید ہے غم کے پیچھو راست کہتے ہیں کہ شادی ہووے ہے حضرت رمضاں گئے ...

مزید پڑھیے

دل نیں پکڑی ہے یار کی صورت

دل نیں پکڑی ہے یار کی صورت گل ہوا ہے بہار کی صورت کوئی گل رو نہیں تمہاری شکل ہم نے دیکھیں ہزار کی صورت تجھ گلی بیچ ہو گیا ہے دل دیدۂ انتظار کی صورت حسن کا ملک ہم نیں سیر کیا کہیں دیکھی نہ پیار کی صورت اب زمانہ سبھی طرح بگڑا کیا بنے روزگار کی صورت وصل کے بیچ ہجر جا ہے بھول جوں ...

مزید پڑھیے

کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا

کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا تباہے حال تری زلف کے اسیروں کا ڈھلے ہے جس پہ دل تس کا کیا ہے ظاہر اسم وہی ہے وہ کہ جو مرجع ہے ان ضمیروں کا ہر ایک سبز ہے ہندوستان کا معشوق بجا ہے نام کہ بالم رکھا ہے کھیروں کا مرید پیٹ کے کیوں نعرہ زن نہ ہوں ان کا برا ہے حال کہ لاگا ہے زخم پیروں ...

مزید پڑھیے

دل ہے ترے پیار کرنے کوں

دل ہے ترے پیار کرنے کوں جی ہے تجھ پر نثار کرنے کوں اک لہر لطف کی ہمیں بس ہے غم کے دریا سوں پار کرنے کوں چشم میری ہے ابر نیسانی گریۂ زار زار کرنے کوں چشم نیں انجہواں کی بستی کی ظلم تیرا شمار کرنے کوں رشک سیں جب کوئی چھوئے وہ زلف دل اٹھے مار مار کرنے کوں اس ادا سوں لٹک لٹک مت آ دل ...

مزید پڑھیے

جال میں جس کے شوق آئی ہے

جال میں جس کے شوق آئی ہے اس کے دل کوں تڑپھ کماہی ہے جگ کے خوباں ہیں تجھ پے سب مفتوں تن میں یوسف بھی ایک چاہی ہے داغ سیں کیوں نہ دل اجالا ہو چشم کی روشنی سیاہی ہے اب تلک کھینچ کھینچ جور و جفا ہر طرح دوستی نباہی ہے طور کیا پوچھتے ہو کافر کا شوخ ہے بانکہ ہے سپاہی ہے ہاتھ میں کہربا ...

مزید پڑھیے

عشق ہے اختیار کا دشمن

عشق ہے اختیار کا دشمن صبر و ہوش و قرار کا دشمن دل تری زلف دیکھ کیوں نہ ڈرے جال ہو ہے شکار کا دشمن ساتھ اچرج ہے زلف و شانے کا مور ہوتا ہے مار کا دشمن دل سوزاں کوں ڈر ہے انجہواں سیں آب ہو ہے شرار کا دشمن کیا قیامت ہے عاشقی کے رشک یار ہوتا ہے یار کا دشمن آبروؔ کون جا کے ...

مزید پڑھیے

کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ

کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ لگ چکا اب چھوٹنا مشکل ہے اس کا دل ہے یہ بے قراری سیں نہ کر ظالم ہمارے دل کوں منع کیوں نہ تڑپے خاک و خوں میں اس قدر بسمل ہے یہ عشق کوں مجنوں کے افلاطوں سمجھ سکتا نہیں گو کہ سمجھاوے پہ سمجھے گا نہیں عاقل ہے یہ کون سمجھاوے مرے دل کوں کوئی منصف ...

مزید پڑھیے

دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہم

دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہم تم آگرے چلے ہو سجن کیا کریں گے ہم یوں صحبتوں کوں پیار کی خالی جو کر چلے اے مہربان کیونکہ کہوں دن پھریں گے ہم جن جن کو لے چلے ہو سجن ساتھ ان سمیت حافظ رہے خدا کے حوالے کریں گے ہم بھولو گے تم اگرچہ سدا رنگ جی ہمیں تو ناؤں بین بین کے تم کو دھریں گے ...

مزید پڑھیے

گلی اکیلی ہے پیارے اندھیری راتیں ہیں

گلی اکیلی ہے پیارے اندھیری راتیں ہیں اگر ملو تو سجن سو طرح کی گھاتیں ہیں بتاں سیں مجھ کوں تو کرتا ہے منع اے زاہد رہا ہوں سن کہ یہ بھی خدا کی باتیں ہیں ازل سیں کیوں یہ ابد کی طرف کوں دوڑیں ہیں وہ زلف دل کے طلب کی مگر براتیں ہیں رقیب عجز سیں معقول ہو سکے ہیں کہیں علاج ان کا مگر ...

مزید پڑھیے

اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو

اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو افعی کہو سیاہ کہو اژدہا کہو قاتل نگہ کوں پوچھتے کیا ہو کہ کیا کہو خنجر کہو کٹار کہو نیمچا کہو ٹک واسطے خدا کے مرا عجز جا کہو بیکس کہو غریب کہو خاک پا کہو عاشق کا درد حال چھپانا نہیں درست پرگھٹ کہو پکار کہو برملا کہو اس تیغ زن نیں دل کوں دیا ہے مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5701 سے 6203