قومی زبان

دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہے

دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہے اب تپ ہجر توقع سے بھی کم رہتا ہے کبھی شعلے سے لپکتے تھے مرے سینے میں اب کسی وقت دھواں سا کوئی دم رہتا ہے کیا خدا جانے مرے دل کو ہوا تیرے بعد نہ خوشی اس میں ٹھہرتی ہے نہ غم رہتا ہے رشتۂ تار تمنا نہیں ٹوٹا اب تک اب بھی آنکھوں میں تری زلف کا ...

مزید پڑھیے

مجھے اس نے تری خبر دی ہے

مجھے اس نے تری خبر دی ہے جس نے ہر شام کو سحر دی ہے گم رہا ہوں ترے خیالوں میں تجھ کو آواز عمر بھر دی ہے دن تھا اور گرد رہ گزار نصیب رات ہے اور ستارہ گردی ہے سرد و گرم زمانہ دیکھ لیا نہ وہ گرمی ہے اب نہ سردی ہے

مزید پڑھیے

دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے

دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے یہ شہر تو مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے جہاں کہ داغ ہے یاں آگے درد رہتا تھا مگر یہ داغ بھی جاتا دکھائی دیتا ہے پکارتی ہیں بھرے شہر کی گزر گاہیں وہ روز شام کو تنہا دکھائی دیتا ہے یہ لوگ ٹوٹی ہوئی کشتیوں میں سوتے ہیں مرے مکان سے دریا دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

میں اپنی ذات میں جب سے ستارا ہونے لگا

میں اپنی ذات میں جب سے ستارا ہونے لگا پھر اک چراغ سے میرا گزارا ہونے لگا مری چمک کے نظارے کو چاہیے کچھ اور میں آئنے پہ کہاں آشکارا ہونے لگا یہ کیسی برف سے اس نے بھگو دیا ہے مجھے پہاڑ جیسا مرا جسم گارا ہونے لگا زمیں سے میں نے ابھی ایڑیاں اٹھائی تھیں کہ آسمان کا مجھ کو نظارہ ہونے ...

مزید پڑھیے

ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا

ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا ایک ہی عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا چند لوگوں کی محبت بھی غنیمت ہے میاں شہر کا شہر ہمارا تو نہیں ہو سکتا کب تلک قید رکھوں آنکھ میں بینائی کو صرف خوابوں سے گزارا تو نہیں ہو سکتا رات کو جھیل کے بیٹھا ہوں تو دن نکلا ہے اب میں سورج سے ستارہ تو نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5610 سے 6203