قومی زبان

سر آسماں سر زمیں

معلوم نہیں کیا ہوا کہ جنس محبت پہ حاوی ہو گئی گویا محبت ہار گئی اور جنس جیت گئی جو ہاتھ ہاتھ میں پیوست ہو سکتے تھے وہ ہاتھ کہاں ہیں جو ہاتھ کو تھامے کچھ دور چل سکتے تھے کیا ان ہاتھوں کو توڑ دیا گیا وہ ہاتھ کہاں گئے جو نظم لکھتے تھے وہ ہاتھ کہاں گئے جو آسمان کو زمین پر اتار سکتے ...

مزید پڑھیے

اپنے جیسے عاشقوں کے نام

میں تڑپتا ہوں میں بہت تڑپتا ہوں کہ وہاں لوٹ جاؤں جہاں سے میری عمر شروع ہوئی تھی جہاں میرے دن رات میری مٹی کی مہک سے مہکتے تھے زمین بھر کی دھوپ میں سے میرے حصہ کی دھوپ میرے روم روم کو سینکتی تھی ستاروں بھرے آسمان میں سے میرے نام کا ستارہ بدن کی اگنی بن کے میرے حصے کی دلہن کو ندی کے ...

مزید پڑھیے

انخلا

قل‌ الروح من امر ربی ان لوگوں سے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہر بات لفظ سے شروع ہوتی ہے میں آج ان کو چھوڑنے آیا ہوں ٹھیک اس جگہ پہ جہاں سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا صرف چند آنکھیں ہوتی ہیں ان آنکھوں آنکھوں کو رکھنے کے کے ہوا ہوا میں ڈولتی ہیں صرف چند آنکھیں ہوتی ہیں آسمان کے چھوٹے سے ٹکڑے کو ...

مزید پڑھیے

لا شعور

میں سو گیا تو زندگی علامتوں کی کھوج میں نکل گئی پرانے زاویوں کی دھول جسم پر ملے ہوئے بہت نراش سینکڑوں برس کے گیت گھاٹ گھاٹ پھیلتے سفید پانیوں کے بیچ گھولتی چلتی گئی سفید پانیوں کے نام پرانے زاویوں کی دھول نفرتیں اور پتھروں کی ڈھیریاں اداس پاؤں تھک گئے نہ جادوؤں کی بھیڑ تھی نہ ...

مزید پڑھیے

ازل ابد سے بہت دور جھومتے تھے ہم

ازل ابد سے بہت دور جھومتے تھے ہم کسی کے دھیان میں کچھ دن کو جا بسے تھے ہم وہ غم ہو یا ہو خوشی کیف کم نہ ہوتا تھا عجیب راہ سے ہو کر گزر رہے تھے ہم بہت عزیز تھے ہم کو ہمارے دوست مگر اک اجنبی کے لئے سب سے چھٹ گئے تھے ہم کرم سے آپ کے سرشار تھا یہ دل لیکن خوشی کی آنچ میں کیا کیا پگھل رہے ...

مزید پڑھیے

مضطرب ہیں وقت کے ذرات سورج سے کہو

مضطرب ہیں وقت کے ذرات سورج سے کہو آ گئی کیوں آگ کی برسات سورج سے کہو ہم ہیں اور شعلوں کی لپٹیں بڑھ رہی ہیں ہر طرف کیا ہوئی وہ چھاؤں کی اک بات سورج سے کہو ناچتے ہیں یہ بھیانک سائے آخر کس لیے زیر لب کیا کہہ رہی ہے رات سورج سے کہو ایک تپتا دشت ہے اور ساتھ کوئی بھی نہیں کس سفر میں ہے ...

مزید پڑھیے

نہیں ملتے وہ اب تو کیا بات ہے

نہیں ملتے وہ اب تو کیا بات ہے یہاں خود سے بھی کب ملاقات ہے ترے دھیان کے سب اجالے گئے بس اب ہم ہیں اور دکھ بھری رات ہے ہماری طرف بھی کبھی اک نگاہ ہمیں بھی بہت نشۂ ذات ہے سلگتا ہوا دن جو کٹ بھی گیا تو پھر آنچ دیتی ہوئی رات ہے شکایت کسی سے تو کیا تھی مگر گلہ ایک رسم خرابات ہے نیا ...

مزید پڑھیے

چاند اوجھل ہو گیا ہر اک ستارا بجھ گیا

چاند اوجھل ہو گیا ہر اک ستارا بجھ گیا آندھیاں ایسی چلیں پھر دل ہمارا بجھ گیا اب تو ہم ہیں اور سمندر اور ہوائیں اور رات دور سے کرتا تھا جھلمل اک کنارا بجھ گیا گھورتے ہیں لوگ بیٹھے کیا خلاؤں میں کہ اب ہر اشارہ بجھ گیا ہے ہر سہارا بجھ گیا ہر نظر کے سامنے اب بے کراں پہلی سی ...

مزید پڑھیے

کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں

کچھ اس کو یاد کروں اس کا انتظار کروں بہت سکوت ہے میں خود کو بے قرار کروں بھروں میں رنگ نئے مضمحل تمنا میں اداس رات کو آسودۂ بہار کروں کچھ اور چاہ بڑھاؤں کچھ اور درد سہوں جو مجھ سے دور ہے یوں اس کو ہم کنار کروں وفا کے نام پہ کیا کیا جفائیں ہوتی رہیں میں ہر لباس جفا آج تار تار ...

مزید پڑھیے

یہ وفائیں ساری دھوکے پھر یہ دھوکے بھی کہاں

یہ وفائیں ساری دھوکے پھر یہ دھوکے بھی کہاں چند دن کی بات ہے پھر لوگ ہم سے بھی کہاں تم کو آنا تھا نہ آئے وقت لیکن کٹ گیا مضمحل ہوتے ہو کیوں ہم رات روئے بھی کہاں پیڑ یہ سوکھے ہوئے کچھ یہ زمیں تپتی ہوئی چلتے چلتے آج ٹھہرے ہم تو ٹھہرے بھی کہاں آج تو وہ دیر تک بیٹھے رہے خاموش سے رفتہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5600 سے 6203