قومی زبان

اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے

اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے لنگر سے روٹی لیتے ہیں پانی سبیل سے دنیا کا کوئی داغ مرے دل کو کیا لگے مانگا نہ اک درم بھی کبھی اس بخیل سے کیا بوریا نشیں کو ہوس تاج و تخت کی کیا خاک آشنا کو غرض اسپ و فیل سے دل کی طرف سے ہم کبھی غافل نہیں رہے کرتے ہیں پاسبانی شہر اس فصیل سے گہوارۂ ...

مزید پڑھیے

آخر الامر تری سمت سفر کرتے ہیں

آخر الامر تری سمت سفر کرتے ہیں آج اس نخل مسافت کو شجر کرتے ہیں جو ہے آباد تری آئنہ سامانی سے ہم اسی خانۂ حیرت میں بسر کرتے ہیں دل تو وہ پیٹ کا ہلکا ہے کہ بس کچھ نہ کہو اپنی حالت سے کب ایسوں کو خبر کرتے ہیں وصل اور ہجر ہیں دونوں ہی میاں سے بیعت دیکھیے کس پہ عنایت کی نظر کرتے ...

مزید پڑھیے

آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا

آنسو کی طرح دیدۂ پر آب میں رہنا ہر گام مجھے خانۂ سیلاب میں رہنا وہ ابروئے خم دار نظر آئے تو سمجھے آنکھوں کی طرح سایۂ محراب میں رہنا غفلت ہی میں کٹتے ہیں شب و روز ہمارے ہر آن کسی دھیان کسی خواب میں رہنا دن بھر کسی دیوار کے سائے میں تگ و تاز شب جستجوئے چادر مہتاب میں رہنا ویرانۂ ...

مزید پڑھیے

مکاشفہ

سنو اگر تم ختم کرنا ہی چاہتے ہو تو آدمی کو آدمی سے کرنے والے آدمی کو ختم کر دو اس سے وہ سب کچھ چھین لو جو تمہارے پاس بہت پہلے بھی نہیں تھا اور بعد میں بھی نہیں ہے جب آگ اور برف کی تاثیر ایک ہی ہے تو دونوں کی الگ الگ شکل تمہیں کیا دے سکتی ہے یا تم اس سے کیا لے سکتے ہو سوائے اس کے کہ تم ...

مزید پڑھیے

جھونکا

وہ کون تھی کہاں ملی مجھے تو کچھ پتہ نہیں مگر وہ جب چلی گئی تو دور تک خیال میں ہوا کا تیز شور تھا

مزید پڑھیے

ایسا بھی نہیں کہ

ایسا بھی نہیں کہ مجھے زندگی کے پیڑ کے پاس بے آس اور بے سہارا چھوڑ دیا گیا ہو میں نے ابھی ابھی گلہریوں کی آواز سنی ہے گلہریاں میرے لئے بہشت کے اخروٹ لا رہی ہیں سوائے اس کے کہ آدم زاد کہیں دکھائی نہیں دیتا مگر جنگل بول رہا ہے کہ اس کے بول میں میری بچھڑی ہوئی آواز شامل ہے میرے بال ...

مزید پڑھیے

ابد

موت کس راہ پر کھڑی میری راہ دیکھ رہی ہے ابھی ابھی میں نے ہوا کی ان دیکھی چادر میں سوراخ کیا ہے اور بہت اوپر کے بادلوں کو چھلنی کر دیا ہے زمین بھر کی وہ ساری مٹی جو ان گنت دفن ہونے والوں کی کیمیا سے بنی ہے اور چاروں دشاؤں میں ان گنت بدن جلوں کی چتاؤں کی جو راکھ بنی ہے کہاں لے جائے گی ...

مزید پڑھیے

محور

ہماری آنکھوں میں جلنے والے نقوش باقی ہیں کان موسم کی گرم آہٹ سے چونک اٹھتے ہیں بھیگی مٹی کا لمس فن کو نکھار دیتا ہے نرسری کے پرانے گملوں میں پرورش کے تمام آداب خوب سجتے ہیں ہوا ابھی تک ہمارے پیڑوں کی سرد شاخوں میں سرسراتی ہے ہونٹ ہلتے ہیں اور گائک ہمارے وجدان کی شت اور اتھاہ ...

مزید پڑھیے

دھند کے رشتے ہے

دھند کے رشتے گہرے ہوتے جاتے ہیں آواز نہیں جو آئے اور کانوں کی بے کار ہوس پر جلتے پانی کے چھینٹے دے سوچ سکو تو سوچو اور اس ڈولتے پل کی راکھ پر اپنے الٹے سیدھے نام لکھو شنکر درگا ودیا وجے سمترا جو اب بھی ہے وہ کبھی نہ تھا جو کبھی نہ تھا وہ اب بھی ہے وہ اب بھی ہے اور تم اس کو پہچانتے ...

مزید پڑھیے

مکاشفہ۲

یہ کس کی ندا ماوراے ندا آ رہی ہے یہ روئے معشیت ہے یا غیب کا کوئی نورانی ہالا موت کی آمد آمد ہے موت مکتب علم عدم سے نکل کے جسم خاک و خاشاک سے جان نکالتی ہے پھر اپنی برتری سرخ روی لیے زمیں تا زمیں اور آسماں تا آسماں پھرتی ہے موت ایک کرتب باز ہے یا تمام کرتبوں کی موجد ہے اس نے نر اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5596 سے 6203