قومی زبان

تم کہاں ہو

میری نیند اک پرندہ ہے جو گم ہو گیا ہے تمہاری آنکھوں میں تمہاری آنکھیں کہاں ہیں میرا دل بھرا رہتا ہے اس بادل کی طرح جسے تلاش ہے تمہاری دھوپ کی تمہارے حسن کا سورج کہاں ہے اک جنگ جو میں ہوں گھرا رہتا ہوں اپنے آپ میں اور ایک شہزادی جسے بلا رہا ہے یہ جنگل اے شہزادی تم کہاں ہو

مزید پڑھیے

خزاں کے آتے آتے

میرے پاس بہت سارے خواب اور بہت سارے سیب ہیں ایک افرودیتی کے لیے ایک سیفوؔ کے لیے اور ایک اپنا کوزی کو دوا کے لیے جس نے آئینے کے سامنے اپنی چھاتیوں کا ٹینس کی گیند یا دھرتی سے موازنہ نہیں کیا ہوگا میرے تمام خواب ان کے لیے جن کے آنسوؤں سے میری نظمیں بنیں میری محبوبہ کے لیے میرے پاس ...

مزید پڑھیے

یہاں لکھنا منع ہے

پاکیزہ ٹھہرائی جانے والی دیواروں پر لکھا ہے یہاں لکھنا منع ہے وہیں لکھ دیتے ہیں لوگ بے شرمی سے گالیاں بے ہودہ نعرے فرسودہ مذہبی احکامات میں لکھ دوں وہاں وہ لفظ جو میرے اندر مر رہے ہیں پر لکھ نہیں سکتا دیواریں روکتی ہیں مجھے روکتی ہیں میرے اندر دیواروں کو گرنے سے ایک جنرل کہتا ...

مزید پڑھیے

جو میرے مرنے کا تماشا نہیں دیکھنا چاہتی

میں جس دن پیدا ہوا اسی دن سے مر رہا ہوں وہ طبلے پر پیالے میں تلخ محلول رکھا تھا اب نہیں ہے وہ اک دریا بہتا تھا اسے خشک کر دیا گیا ہے وہ چھت سے رسی ٹنگی تھی ہٹا دی گئی ہے میں تمام عمر اپنوں کے نرغے میں رہا ہوں مجھے میرا پیالہ میرا دریا میری رسی تھوڑی دیر کے لیے واپس کیے جائیں میں ...

مزید پڑھیے

کسی کا دھیان مہ نیم ماہ میں آیا

کسی کا دھیان مہ نیم ماہ میں آیا سفر کی رات تھی اور خواب راہ میں آیا طلوع ساعت شب خوں ہے اور میرا دل کسی ستارۂ بد کی نگاہ میں آیا مہ و ستارہ سے دل کی طرف چلا وہ جواں عدو کی قید سے اپنی سپاہ میں آیا جہاد غم میں کوئی سست ضرب میری طرح گرفت میسرۂ اشک و آہ میں آیا ستارے ڈوب گئے اور وہ ...

مزید پڑھیے

صبا دیکھ اک دن ادھر آن کر کے

صبا دیکھ اک دن ادھر آن کر کے یہ دل بھی پڑا ہے گلستان کر کے یہی دل جو اک بوند ہے بحر غم کی ڈبو دے گا سب شہر طوفان کر کے میاں دل کو اس آئنہ رو کے آگے جو رکھنا تو یک لخت حیران کر کے خدا جانے کیا اصلیت غیر کی ہے دکھے ہے بنی نوع انسان کر کے اسے اب رقیبوں میں پاتے ہیں اکثر رکھا جس کو خود ...

مزید پڑھیے

گئے تھے وہاں جی میں کیا ٹھان کر کے

گئے تھے وہاں جی میں کیا ٹھان کر کے چلے آئے ایران توران کر کے اگر دل کا بالفرض گل نام پڑ جائے تو پھر ہے یہ سینہ گلستان کر کے دیا ہم نے دل ان پری چہرگاں کو زروئے قیاس آدمی جان کر کے یہ دنیا ہمیں خوش نہ آئے گی پھر بھی رہیں خواہ خود کو سلیمان کر کے ترے غم میں جس سے مژہ تر کروں ہوں وہ ...

مزید پڑھیے

مجھ سے بڑا ہے میرا حال

مجھ سے بڑا ہے میرا حال تجھ سے چھوٹا تیرا خیال چار پہر کی ہے یہ رات اور جدائی کے سو سال ہاتھ اٹھا کر دل پر سے آنکھوں پر رکھا رومال ننگ ہے تکیے داروں کا پائے طلب یا دست سوال من جو کہتا ہے مت سن یا پھر تن پر مٹی ڈال اجلا اجلا تیرا روپ دھندلے دھندلے خد و خال سکھ کی خاطر دکھ مت ...

مزید پڑھیے

کوئی جل میں خوش ہے کوئی جال میں

کوئی جل میں خوش ہے کوئی جال میں مست ہیں سب اپنے اپنے حال میں جادۂ شمشیر ہو یا فرش گل فرق کب آیا ہماری چال میں ایک آنسو سے کمی آ جائے گی غالباً دریاؤں کے اقبال میں شعلۂ صد رنگ کی سی کیفیت تجھ میں ہے یا تیرے خد و خال میں ایک لمحہ میرا یار غار ہے اس مصیبت گاہ ماہ و سال میں یہ جو ...

مزید پڑھیے

آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں

آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں کیا جانیے کس وقت وہ نظارہ فرمانی کریں بحر بلا ہے موج پر قہر قضا ہے اوج پر ہیں کاہ ساماں مستعد تا نا گریزانی کریں آئی ہے رات ایسی دنی ہے ہر چراغ افسردنی اے دل بیا اے دل بیا کچھ شعلہ سامانی کریں ہاں ہاں دکھائیں گے ضرور ہم وحشت دل کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5595 سے 6203