قومی زبان

وہ اب تجارتی پہلو نکال لیتا ہے

وہ اب تجارتی پہلو نکال لیتا ہے میں کچھ کہوں تو ترازو نکال لیتا ہے وہ پھول توڑے ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر وہ توڑ کے خوشبو نکال لیتا ہے میں اس لئے بھی ترے فن کی قدر کرتا ہوں تو جھوٹ بول کے آنسو نکال لیتا ہے اندھیرے چیر کے جگنو نکالنے کا ہنر بہت کٹھن ہے مگر تو نکال لیتا ہے وہ بے ...

مزید پڑھیے

پھول پر اوس کا قطرہ بھی غلط لگتا ہے

پھول پر اوس کا قطرہ بھی غلط لگتا ہے جانے کیوں آپ کو اچھا بھی غلط لگتا ہے مجھ کو معلوم ہے محبوب پرستی کا عذاب دیر سے چاند نکلنا بھی غلط لگتا ہے آپ کی حرف ادائی کا یہ عالم ہے کہ اب پیڑ پر شہد کا چھتا بھی غلط لگتا ہے ایک ہی تیر ہے ترکش میں تو عجلت نہ کرو ایسے موقعے پہ نشانا بھی غلط ...

مزید پڑھیے

سر بہ زانوں کوئی فن کار الگ بیٹھا ہے

سر بہ زانوں کوئی فن کار الگ بیٹھا ہے میں یہاں ہوں مرا کردار الگ بیٹھا ہے شہر میں نامۂ تقدیس لکھا جائے گا مطمئن ہوں مرا انکار الگ بیٹھا ہے تیری تعریف میں سب بول رہے ہیں لیکن اس پہ حیرت ہے کہ معیار الگ بیٹھا ہے غیر محفوظ ہیں دیوار بنانے والے اور شہنشہ سر مینار الگ بیٹھا ہے اب ...

مزید پڑھیے

آخری معرکہ اب شہر دھواں دھار میں ہے

آخری معرکہ اب شہر دھواں دھار میں ہے میرے سرہانے کا پتھر اسی دیوار میں ہے اب ہمیں پچھلے حوالہ نہیں دینا پڑتے اک یہی فائدہ بگڑے ہوئے کردار میں ہے بیشتر لوگ جسے عمر رواں کہتے ہیں وہ تو اک شام ہے اور کوچۂ دل دار میں ہے یہ بھی ممکن ہے کہ لہجہ ہی سلامت نہ رہے مجلس شہر بھی اب شہر کے ...

مزید پڑھیے

ذرا ذرا سی کئی کشتیاں بنا لینا

ذرا ذرا سی کئی کشتیاں بنا لینا وہ اب کے آئے تو بچپن رفو کرا لینا تمازتوں میں مرے غم کے سائے میں چلنا اندھیرا ہو تو مرا حوصلہ جلا لینا شروع میں میں بھی اسے روشنی سمجھتا تھا یہ زندگی ہے اسے ہاتھ مت لگا لینا میں کوئی فرد نہیں ہوں کہ بوجھ بن جاؤں اک اشتہار ہوں دیوار پر لگا ...

مزید پڑھیے

اس لمحے کے لیے مجھے فرصت نہیں

اس لمحے غم کے لیے مجھے فرصت نہیں شیلف میں ادھر ادھر رکھی ہوئی کتابوں کو ترتیب دینا چاہتا ہوں باہر بارش ہو رہی ہے بارش کے قطرے ہوا کے ساتھ رقص کر رہے ہیں مجھے مائیکل جیکسن کا کوئی پر شور گیت سننا چاہیئے اس لمحے غم کے لیے اپنے چہرے پہ چھائی وحشت کو ایک شیو کے ذریعے ختم کرنا چاہتا ...

مزید پڑھیے

نظم

میری نظم کو دور سے دیکھو دور سے محسوس کرو اس سے بات مت کرو اس کو چھونے کی ہوس کو شامل کر لو اپنے اک خواب میں زیادہ مٹھاس اور کڑواہٹ کا ذائقہ ایک سا ہوتا ہے تم اس نظم کو اپنی کمر پر خشک گھڑا تصور کرو تمہیں دور، صحرا سے پانی لینے جانا ہے وہاں تمہیں دو آنکھیں ملیں گی ان میں یہ نظم ...

مزید پڑھیے

وہی درندہ

وہی درندہ مجھے جنگل سے شہر لے آیا یہاں اس نے مسکرانا سیکھا جو کرتا رہا میں دیکھتا رہا اور اپنے اندر حیرتیں جمع کرتا رہا اس نے ایک عورت کی چھاتیاں بھنبھوڑ ڈالیں جس نے اس کے عضو تناسل اور دل کو تھکا دیا ہے اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور تھوک نگل لیا وہاں اسے کوئی نظر نہیں آیا مجھے ...

مزید پڑھیے

ویلنٹائن ڈے

آؤ آج دھوپ میں کھڑے ہو کر درختوں کو دعائیں دیں جن کے پاس ہمارے حصے کی تھکن ہے آؤ آج خشک دریا میں کھڑے ہو کر پانی کو آواز دیں آؤ آج پھولوں کا رنگ اوڑھ کر آوارگی کریں اور تکتے رہیں آسمان کو جہاں ہر شام اک نئی پینٹینگ سجی ہوتی ہے آؤ آج پرندوں کو آسمان اور محبوباؤں کو پیش کریں سرخ ...

مزید پڑھیے

چوہا

ایک بوسے نے تمہیں عورت بنا دیا اور اسے تبدیل کر دیا ایک چوہے میں یہ چوہا بلیوں کو دیکھ کر ڈرا سہما شہر کی گلیوں میں گھس جاتا ہے ڈھونڈتا رہتا ہے دن بھر اپنی وحشت کا سرا مباشرت کی جگہ آوارہ گردی کرتا ہے ان سے کہہ دو اپنے جسم کو دکھانے کا سوانگ نہ رچائیں چوہا سوچتا ہے پاگل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5594 سے 6203