اک اشک بہا ہوگا
اک اشک بہا ہوگا اک شعر ہوا ہوگا چپ چاپ پڑے ہیں ہم دل راکھ ہوا ہوگا اک خواب سہارا تھا وہ ٹوٹ گیا ہوگا دل نے تو ان آنکھوں پر الزام دھرا ہوگا ہے عشق تو ہے ہم کیش دل میں کوئی تھا ہوگا کیا نور تھا پانی میں آنکھوں سے بہا ہوگا پھر یار نہیں آئے پھر جام دھرا ہوگا اک شعلہ فزوں ہو ...