قومی زبان

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول شاخ سے بڑھ کر کف دل ...

مزید پڑھیے

خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے

خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے وحشت کا سبب روزن زنداں تو نہیں ہے مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے اے چارہ گرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں ...

مزید پڑھیے

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے شائستگیٔ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا نمناک تو ہو جاتے ہیں جل ...

مزید پڑھیے

جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے

جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے اب اک ہجوم شکستہ دلاں ہے ساتھ اپنے جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشا سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ...

مزید پڑھیے

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے میں نے یہ ...

مزید پڑھیے

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو

ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو فضا ...

مزید پڑھیے

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں میں سب تری نذر کر رہا ہوں یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی وقت یاد آئیں تو ایک اک حرف جی اٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں اداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ ...

مزید پڑھیے

محاصرہ

مرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے کہ حلقہ زن ہیں مرے گرد لشکری اس کے فصیل شہر کے ہر برج ہر منارے پر کماں بہ دست ستادہ ہیں عسکری اس کے وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش وجود خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی سبھی دریدہ دہن ...

مزید پڑھیے

ابھی ہم خوبصورت ہیں

ابھی ہم خوبصورت ہیں ہمارے جسم اوراق خزانی ہو گئے ہیں اور ردائے زخم سے آراستہ ہیں پھر بھی دیکھو تو ہماری خوش نمائی پر کوئی حرف اور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیا ہمارے ہونٹ زہریلی رتوں سے کاسنی ہیں اور چہرے رتجگوں کی شعلگی سے آبنوسی ہو چکے ہیں اور زخمی خواب نادیدہ جزیروں کی زمیں ...

مزید پڑھیے

سوال

اک سنگ تراش جس نے برسوں ہیروں کی طرح صنم تراشے آج اپنے صنم کدے میں تنہا مجبور نڈھال زخم خوردہ دن رات پڑا کراہتا ہے چہرے پہ اجاڑ زندگی کے لمحات کی ان گنت خراشیں آنکھوں کے شکستہ مرقدوں میں روٹھی ہوئی حسرتوں کی لاشیں سانسوں کی تھکن بدن کی ٹھنڈک احساس سے کب تلک لہو لے ہاتھوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5583 سے 6203