قومی زبان

اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا

اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا زمانے کو نئی کھڑکی سے جھانکا وہ پورا چاند تھا لیکن ہمیشہ گلی میں ادھ کھلی کھڑکی سے جھانکا میں پہلی مرتبہ نشے میں آیا کوئی جب دوسری کھڑکی سے جھانکا امر ہونے کی خواہش مر گئی تھی جب اس نے دائمی کھڑکی سے جھانکا میں سبزے پر چلا تھا ننگے پاؤں سحر دم ...

مزید پڑھیے

جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی

جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی راہ اس سمت کی ہموار نہیں بھی ہوتی میں تہی دست لڑائی کے ہنر سیکھتا ہوں کبھی اس ہاتھ میں تلوار نہیں بھی ہوتی پھر بھی ہم لوگ تھے رسموں میں عقیدوں میں جدا گر یہاں بیچ میں دیوار نہیں بھی ہوتی وہ مری ذات سے انکار کیے رکھتا ہے گر کبھی صورت انکار ...

مزید پڑھیے

دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے

دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے اس پوری کائنات میں کتنا سراب ہے روزانہ اک فقیر لگاتا ہے یہ صدا دنیا سراب ہے ارے دنیا سراب ہے موسیٰ نے ایک خواب حقیقت بنا دیا ویسے تو گہرے پانی میں رستہ سراب ہے پوری طرح سے ہاتھ میں آیا نہیں کبھی وہ حسن بے مثال بھی آدھا سراب ہے کھلتا نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے اب وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے میں یہ ایسے ہی نہیں چھان رہا ہوں اب تک خاک میں کوئی ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے اس محبت میں ہر اک شے بھی تو لٹ سکتی ہے اس محبت میں خسارہ بھی ...

مزید پڑھیے

دشت میں وادئ شاداب کو چھو کر آیا

دشت میں وادئ شاداب کو چھو کر آیا میں کھلی آنکھ حسیں خواب کو چھو کر آیا اس کو چھو کر مجھے محسوس ہوا ہے ایسے جیسے میں ریشم و کمخواب کو چھو کر آیا مجھ کو معلوم ہے پوروں کے دمکنے کا جواز رات میں خواب میں مہتاب کو چھو کر آیا جسم کے ساتھ مری روح بھی نم ہونے لگی جب سے اس دیدۂ پر آب کو ...

مزید پڑھیے

دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا

دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا یہ کس جگہ پہ میں تمہاری جستجو میں آ گیا وہ سرو قامت ہو گیا ہے دیکھتے ہی دیکھتے جانے کہاں سے زور سا اس کی نمو میں آ گیا بس چند لمحے پیشتر وہ پاؤں دھو کے پلٹا ہے اور نور کا سیلاب سا اس آب جو میں آ گیا چاروں طرف ہی تتلیوں کے رقص ہونے لگ گئے تو آ ...

مزید پڑھیے

اے تعصب زدہ دنیا ترے کردار پہ خاک

اے تعصب زدہ دنیا ترے کردار پہ خاک بغض کی گرد میں لپٹے ہوئے معیار پہ خاک ایک عرصے سے مری ذات میں آباد ہے دشت ایک عرصے سے پڑی ہے در و دیوار پہ خاک وہ غزالوں سے ابھی سیکھ کے رم لوٹا ہے بال ہیں دھول میں گم اور لب و رخسار پہ خاک مجھے پلکوں سے صفائی کی سعادت ہو نصیب ڈال کر جائے ہوا روز ...

مزید پڑھیے

کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں

کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں خاک سے اٹھے ہیں سو خاک ہی ہونا ہے ہمیں پھر تعلق کے بکھرنے کی شکایت کیسی جب اسے کانچ کے دھاگوں میں پرونا ہے ہمیں انگلیوں کی سبھی پوروں سے لہو رستا ہے اپنے دامن کے یہ کس داغ کو دھونا ہے ہمیں پھر اتر آئے ہیں پلکوں پہ سسکتے آنسو پھر کسی شام کے ...

مزید پڑھیے

زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی مجھے

زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی مجھے رات سے ذات کی تکمیل نہیں کرنی مجھے کسی درویش کے حجرے سے ابھی آیا ہوں سو ترے حکم کی تعمیل نہیں کرنی مجھے چھوڑ دی دشت نوردی بھی زیاں کاری بھی زندگی اب تری تذلیل نہیں کرنی مجھے دل کے بازار میں زنجیر زنی ہونی نہیں آنکھ بھی آنکھ رہے جھیل نہیں کرنی ...

مزید پڑھیے

کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا

کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا جلتے ہوئے دیوں کی سہیلی ہوئی ہوا شدت سے ہانپ ہانپ کے مردہ سی ہو چکی وحشت زدہ چراغ سے کھیلی ہوئی ہوا پلٹی تو داستان بھی پلٹے گی ایک دم وادی کی بند سمت دھکیلی ہوئی ہوا سب پات جھڑ چکے ہیں دیے بھی شکستہ ہیں رقص و جنوں کی رت میں اکیلی ہوئی ہوا کھڑکی سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5573 سے 6203