قومی زبان

مرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے

مرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے سو لگتا ہے کہانی ختم ہوتی جا رہی ہے اسے چھو کر لبوں سے پھول جھڑنے لگ گئے ہیں مری آتش فشانی ختم ہوتی جا رہی ہے سلگتے دشت میں اب دھوپ سہنا پڑ گئی ہے تمہاری سائبانی ختم ہوتی جا رہی ہے ہمارا دل زمانے سے الجھنے لگ گیا ہے تمہاری حکمرانی ختم ہوتی جا ...

مزید پڑھیے

جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے

جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے ہر مصیبت میں روانی سے نکل سکتا ہے تو جو یہ جان ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہے تیرا کردار کہانی سے نکل سکتا ہے شہر انکار کی پر پیچ سی ان گلیوں سے تو فقط عجز بیانی سے نکل سکتا ہے گردش دور ترے ساتھ چلے چلتا ہوں کام اگر نقل مکانی سے نکل سکتا ہے اے مری قوم ...

مزید پڑھیے

فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں

فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں تمام خلق کو حیرت سے مارتا ہوا میں دو چار سانس میں جیتا ہوں ایک عرصے تک ذرا سے وقت میں صدیاں گزارتا ہوا میں جو میرے سامنے ہے اور دل و دماغ میں بھی چہار سمت اسی کو پکارتا ہوا میں مرے نقوش پہ کاری گری رکی ہوئی ہے شکستہ چاک سے خود کو اتارتا ہوا ...

مزید پڑھیے

جنوں کو رخت کیا خاک کو لبادہ کیا

جنوں کو رخت کیا خاک کو لبادہ کیا میں دشت دشت بھٹکنے کا جب ارادہ کیا میں ناصحان کی سنتا ہوں اور ٹالتا ہوں سو قرب حسن چھٹا اور نہ ترک بادہ کیا مہکتے پھول ستارے دمکتا چاند دھنک ترے جمال سے کتنوں نے استفادہ کیا ہزار رنگ میں جلوہ نما تھا حسن و جمال دل اور شوخ ہوا اس کو جتنا سادہ ...

مزید پڑھیے

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے یہ کن ہاتھوں ہزاروں لوگ مارے جا رہے تھے سنہری جل پری دیکھی تو پھر پانی میں کودے وگرنہ ہم تو دریا کے کنارے جا رہے تھے سمندر ایک قطرے میں سمیٹا جا رہا تھا شتر سوئی کے ناکے سے گزارے جا رہے تھے چمن زاروں میں خیمہ زن تھے صحراؤں کے باسی ہرے منظر ...

مزید پڑھیے

بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں

بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں وحشت کو جا کے دشت میں مارا کروں گا میں ویسے تو یہ زمین مرے کام کی نہیں لیکن اب اس کے ساتھ گزارا کروں گا میں شاید کہ اس سے مردہ سمندر میں جان آئے صحرا میں کشتیوں کو اتارا کروں گا میں منظر کا رنگ رنگ نگاہوں میں آئے گا اک ایسے زاویے سے نظارہ کروں گا ...

مزید پڑھیے

میں وحشت و جنوں میں تماشا نہیں بنا

میں وحشت و جنوں میں تماشا نہیں بنا صحرا مرے وجود کا حصہ نہیں بنا اس بار کوزہ گر کی توجہ تھی اور سمت ورنہ ہماری خاک سے کیا کیا نہیں بنا سوئی ہوئی انا مرے آڑے رہی سدا کوشش کے باوجود بھی کاسہ نہیں بنا یہ بھی تری شکست نہیں ہے تو اور کیا جیسا تو چاہتا تھا میں ویسا نہیں بنا ورنہ ہم ...

مزید پڑھیے

یہ تعلق تری پہچان بنا سکتا تھا

یہ تعلق تری پہچان بنا سکتا تھا تو مرے ساتھ بہت نام کما سکتا تھا یہ بھی اعجاز مجھے عشق نے بخشا تھا کبھی اس کی آواز سے میں دیپ جلا سکتا تھا میں نے بازار میں اک بار ضیا بانٹی تھی میرا کردار مرے ہاتھ کٹا سکتا تھا کچھ مسائل مجھے گھر روک رہے ہیں ورنہ میں بھی مجنوں کی طرح خاک اڑا سکتا ...

مزید پڑھیے

غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا

غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا ہری بھری رتوں کو میری شال کر دیا گیا قدم قدم پہ کاسہ لے کے زندگی تھی راہ میں سو جو بھی اپنے پاس تھا نکال کر دیا گیا میں زخم زخم ہو گیا لہو وفا کو رو گیا لڑائی چھڑ گئی تو مجھ کو ڈھال کر دیا گیا گلاب رت کی دیویاں نگر گلاب کر گئیں میں سرخ رو ہوا اسے بھی ...

مزید پڑھیے

سکوت توڑنے کا اہتمام کرنا چاہیئے

سکوت توڑنے کا اہتمام کرنا چاہیئے کبھی کبھار خود سے بھی کلام کرنا چاہیئے ادب میں جھکنا چاہیئے سلام کرنا چاہیئے خرد تجھے جنون کو امام کرنا چاہیئے الجھ گئے ہیں سارے تار اب مرے خدا تجھے طویل داستاں کا اختتام کرنا چاہیئے تمام لوگ نفرتوں کے زہر میں بجھے ہوئے محبتوں کے سلسلوں کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5572 سے 6203