قومی زبان

مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ

مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ چلی آتی ہے وہ موج صبا آہستہ آہستہ ذرا وقفہ سے نکلے گا مگر نکلے گا چاند آخر کہ سورج بھی تو مغرب میں چھپا آہستہ آہستہ کوئی سنتا تو اک کہرام برپا تھا ہواؤں میں شجر سے ایک پتا جب گرا آہستہ آہستہ ابھی سے حرف رخصت کیوں جب آدھی رات باقی ہے گل و شبنم تو ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح سایۂ ابر کی مانند ...

مزید پڑھیے

تنگ آ جاتے ہیں دریا جو کہستانوں میں

تنگ آ جاتے ہیں دریا جو کہستانوں میں سانس لینے کو نکل جاتے ہیں میدانوں میں خیر ہو دشت نوردان محبت کی اب شہر بستے چلے جاتے ہیں بیابانوں میں اب تو لے لیتا ہے باطن سے یہی کام جنوں نظر آتے نہیں اب چاک گریبانوں میں مال چوری کا جو تقسیم کیا چوروں نے نصف تو بٹ گیا بستی کے نگہبانوں ...

مزید پڑھیے

زیست آزار ہوئی جاتی ہے

زیست آزار ہوئی جاتی ہے سانس تلوار ہوئی جاتی ہے جسم بے کار ہوا جاتا ہے روح بیدار ہوئی جاتی ہے کان سے دل میں اترتی نہیں بات اور گفتار ہوئی جاتی ہے ڈھل کے نکلی ہے حقیقت جب سے کچھ پر اسرار ہوئی جاتی ہے اب تو ہر زخم کی منہ بند کلی لب اظہار ہوئی جاتی ہے پھول ہی پھول ہیں ہر سمت ...

مزید پڑھیے

قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہے

قلم دل میں ڈبویا جا رہا ہے نیا منشور لکھا جا رہا ہے میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں مرے ہم راہ دریا جا رہا ہے سلامی کو جھکے جاتے ہیں اشجار ہوا کا ایک جھونکا جا رہا ہے مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے میں اک انساں ہوں یا سارا جہاں ہوں بگولہ ہے کہ صحرا جا رہا ...

مزید پڑھیے

سانس لینا بھی سزا لگتا ہے

سانس لینا بھی سزا لگتا ہے اب تو مرنا بھی روا لگتا ہے کوہ غم پر سے جو دیکھوں تو مجھے دشت آغوش فنا لگتا ہے سر بازار ہے یاروں کی تلاش جو گزرتا ہے خفا لگتا ہے موسم گل میں سر شاخ گلاب شعلہ بھڑکے تو بجا لگتا ہے مسکراتا ہے جو اس عالم میں بہ خدا مجھ کو خدا لگتا ہے اتنا مانوس ہوں سناٹے ...

مزید پڑھیے

بارش کی رت تھی رات تھی پہلوئے یار تھا

بارش کی رت تھی رات تھی پہلوئے یار تھا یہ بھی طلسم گردش لیل و نہار تھا کہتے ہیں لوگ اوج پہ تھا موسم بہار دل کہہ رہا ہے عربدۂ زلف یار تھا اب تو وصال یار سے بہتر ہے یاد یار میں بھی کبھی فریب نظر کا شکار تھا تو میری زندگی سے بھی کترا کے چل دیا تجھ کو تو میری موت پہ بھی اختیار تھا او ...

مزید پڑھیے

انداز ہو بہو تری آواز پا کا تھا

انداز ہو بہو تری آواز پا کا تھا دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا اس حسن اتفاق پہ لٹ کر بھی شاد ہوں تیری رضا جو تھی وہ تقاضا وفا کا تھا دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا اس رشتۂ لطیف کے اسرار کیا کھلیں تو سامنے تھا اور تصور خدا کا ...

مزید پڑھیے

ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتے

ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتے دل کی تہذیب کو تہمت نہیں بننے دیتے لب ہی لب ہے تو کبھی اور کبھی چشم ہی چشم نقش تیرے تری صورت نہیں بننے دیتے یہ ستارے جو چمکتے ہیں پس ابر سیاہ تیرے غم کو مری عادت نہیں بننے دیتے ان کی جنت بھی کوئی دشت بلا ہی ہوگی زندہ رہنے کو جو لذت نہیں بننے ...

مزید پڑھیے

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی کوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کی اپنی پوشاک سے ہشیار کہ خدام قدیم دھجیاں مانگتے ہیں اپنے گریبانوں کی صنعتیں پھیلتی جاتی ہیں مگر اس کے ساتھ سرحدیں ٹوٹتی جاتی ہیں گلستانوں کی دل میں وہ زخم کھلے ہیں کہ چمن کیا شے ہے گھر میں بارات سی اتری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5569 سے 6203