مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ
مداوا حبس کا ہونے لگا آہستہ آہستہ چلی آتی ہے وہ موج صبا آہستہ آہستہ ذرا وقفہ سے نکلے گا مگر نکلے گا چاند آخر کہ سورج بھی تو مغرب میں چھپا آہستہ آہستہ کوئی سنتا تو اک کہرام برپا تھا ہواؤں میں شجر سے ایک پتا جب گرا آہستہ آہستہ ابھی سے حرف رخصت کیوں جب آدھی رات باقی ہے گل و شبنم تو ...