قومی زبان

میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا

میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثنا خواں نہ ہوا یہ ہے وہ جرم جو مجھ سے کسی عنواں نہ ہوا اس گنہ پر مری اک عمر اندھیرے میں کٹی مجھ سے اس موت کے میلے میں چراغاں نہ ہوا کل جہاں پھول کھلے جشن ہے زخموں کا وہاں دل وہ گلشن ہے اجڑ کر بھی جو ویراں نہ ہوا آنکھیں کچھ اور دکھاتی ہیں مگر ذہن کچھ ...

مزید پڑھیے

جانے کہاں تھے اور چلے تھے کہاں سے ہم

جانے کہاں تھے اور چلے تھے کہاں سے ہم بیدار ہو گئے کسی خواب گراں سے ہم اے نو بہار ناز تری نکہتوں کی خیر دامن جھٹک کے نکلے ترے گلستاں سے ہم پندار عاشقی کی امانت ہے آہ سرد یہ تیر آج چھوڑ رہے ہیں کماں سے ہم آؤ غبار راہ میں ڈھونڈیں شمیم ناز آؤ خبر بہار کی پوچھیں خزاں سے ہم آخر دعا ...

مزید پڑھیے

تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں

تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں حسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوں تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں میرے ویرانۂ جاں میں تری یادوں کے ...

مزید پڑھیے

اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا

اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا دشت میں آج بھی اٹھتے ہیں بگولے کیا کیا عشق معیار وفا کو نہیں کرتا نیلام ورنہ ادراک نے دکھلائے تھے رستے کیا کیا یہ الگ بات کہ برسے نہیں گرجے تو بہت ورنہ بادل مرے صحراؤں پہ امڈے کیا کیا آگ بھڑکی تو در و بام ہوئے راکھ کے ڈھیر اور دیتے رہے ...

مزید پڑھیے

گو مرے دل کے زخم ذاتی ہیں

گو مرے دل کے زخم ذاتی ہیں ان کی ٹیسیں تو کائناتی ہیں آدمی شش جہات کا دولہا وقت کی گردشیں براتی ہیں فیصلے کر رہے ہیں عرش نشیں آفتیں آدمی پہ آتی ہیں کلیاں کس دور کے تصور میں خون ہوتے ہی مسکراتی ہیں تیرے وعدے ہوں جن کے شامل حال وہ امنگیں کہاں سماتی ہیں

مزید پڑھیے

وہ جو اک عمر سے مصروف عبادات میں تھے

وہ جو اک عمر سے مصروف عبادات میں تھے آنکھ کھولی تو ابھی عرصۂ ظلمات میں تھے صرف آفات نہ تھیں ذات الٰہی کا ثبوت پھول بھی دشت میں تھے حشر بھی جذبات میں تھے نہ یہ تقدیر کا لکھا تھا نہ منشائے خدا حادثے مجھ پہ جو گزرے مرے حالات میں تھے میں نے کی حد نظر پار تو یہ راز کھلا آسماں تھے تو ...

مزید پڑھیے

لب خاموش سے افشا ہوگا

لب خاموش سے افشا ہوگا راز ہر رنگ میں رسوا ہوگا دل کے صحرا میں چلی سرد ہوا ابر گلزار پہ برسا ہوگا تم نہیں تھے تو سر بام خیال یاد کا کوئی ستارہ ہوگا کس توقع پہ کسی کو دیکھیں کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا زینت حلقۂ آغوش بنو دور بیٹھو گے تو چرچا ہوگا جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم اس ...

مزید پڑھیے

مرا غرور تجھے کھو کے ہار مان گیا

مرا غرور تجھے کھو کے ہار مان گیا میں چوٹ کھا کے مگر اپنی قدر جان گیا کہیں افق نہ ملا میری دشت گردی کو میں تیری دھن میں بھری کائنات چھان گیا خدا کے بعد تو بے انتہا اندھیرا ہے تری طلب میں کہاں تک نہ میرا دھیان گیا جبیں پہ بل بھی نہ آتا گنوا کے دونوں جہاں جو تو چھنا تو میں اپنی شکست ...

مزید پڑھیے

جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں

جی چاہتا ہے فلک پہ جاؤں سورج کو غروب سے بچاؤں بس میرا چلے جو گردشوں پر دن کو بھی نہ چاند کو بجھاؤں میں چھوڑ کے سیدھے راستوں کو بھٹکی ہوئی نیکیاں کماؤں امکان پہ اس قدر یقیں ہے صحراؤں میں بیج ڈال آؤں میں شب کے مسافروں کی خاطر مشعل نہ ملے تو گھر جلاؤں اشعار ہیں میرے استعارے آؤ ...

مزید پڑھیے

فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہو

فاصلے کے معنی کا کیوں فریب کھاتے ہو جتنے دور جاتے ہو اتنے پاس آتے ہو رات ٹوٹ پڑتی ہے جب سکوت زنداں پر تم مرے خیالوں میں چھپ کے گنگناتے ہو میری خلوت غم کے آہنی دریچوں پر اپنی مسکراہٹ کی مشعلیں جلاتے ہو جب تنی سلاخوں سے جھانکتی ہے تنہائی دل کی طرح پہلو سے لگ کے بیٹھ جاتے ہو تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5570 سے 6203