ڈھلان
ریت پر ثبت ہیں یہ کس کے قدم حسن کو نرم خرامی کی قسم سر ساحل مری تخئیل جواں گزری ہے یا کوئی انجمن گل بدناں گزری ہے موج نے نقش قدم چاٹ لیے میری تخئیل کے پر کاٹ لیے لوگ دریاؤں کے انجام سے ڈر جاتے ہیں اب تو رستے بھی سمندر میں اتر جاتے ہیں
ریت پر ثبت ہیں یہ کس کے قدم حسن کو نرم خرامی کی قسم سر ساحل مری تخئیل جواں گزری ہے یا کوئی انجمن گل بدناں گزری ہے موج نے نقش قدم چاٹ لیے میری تخئیل کے پر کاٹ لیے لوگ دریاؤں کے انجام سے ڈر جاتے ہیں اب تو رستے بھی سمندر میں اتر جاتے ہیں
بہت شدید تشنج میں مبتلا لوگو یہاں سے دور محبت کا ایک قریہ ہے یہاں دھوئیں نے مناظر چھپا رکھے ہیں مگر افق بقا کا وہاں سے دکھائی دیتا ہے یہاں تو اپنی صدا کان میں نہیں پڑتی وہاں خدا کا تنفس سنائی دیتا ہے
ہوا لہروں پہ لکھتی ہے تو پانی پر تحریر کرتا ہے کہ ہم فرزند آدم کی طرح سب نقش گر ہیں اہل فن ہیں زندگی تخلیق کرتے ہیں ستارہ ٹوٹ جاتا ہے مگر بجھنے سے پہلے اپنی اس جگ مگ عبارت سے فنا پر خندہ زن ہوتا ہے میں مٹ کر بھی آنے والے لمحوں میں درخشاں ہوں جو پتا شاخ سے گرتا ہے قرطاس ہوا پر دائروں ...
اب نہ پھیلاؤں گا میں دست سوال میں نے دیکھا ہے کہ مجبور ہے تو میری دنیا سے بہت دور ہے تو تیری قسمت میں جہاں بانی ہے میری تقدیر میں حیرانی ہے بزم ہستی میں سرافراز ہے تو میرے انجام کا آغاز ہے تو تو ہے آسودۂ فرش سنجاب خلد ہے تیرے شبستاں کا جواب مسجد شہر کی محراب کا خم تیری تقدیس کی ...
تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے تو نے ہونٹوں کو لرزنے سے تو روکا ہوتا بے نیازی سے مگر کانپتی آواز کے ساتھ تو نے گھبرا کے مرا نام نہ پوچھا ہوتا تیرے بس میں تھی اگر مشعل جذبات کی لو تیرے رخسار میں گلزار نہ بھڑکا ہوتا یوں تو مجھ سے ہوئیں صرف آب و ہوا کی باتیں اپنے ٹوٹے ہوئے فقروں کو ...
شجر سے ٹوٹ کے جب میں گرا کہاں پہ گرا مجھے تلاش کرو جن آندھیوں نے مری سر زمیں ادھیڑی تھی وہ آج مولد عیسیٰ میں گرد اڑاتی ہیں جو ہو سکے تو انہی سے مرا پتہ پوچھو مجھے تلاش کرو چلی جو مشرق و مغرب سے تند و تیز ہوا مرے شجر نے مجھے پیار سے سمیٹ لیا مجھے لپیٹ لیا اپنی کتنی باہوں میں یہ بے ...
میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتا ایک ذرہ بھی تو بیکار نہیں ہو سکتا اس قدر پیار ہے انساں کی خطاؤں سے مجھے کہ فرشتہ مرا معیار نہیں ہو سکتا اے خدا پھر یہ جہنم کا تماشا کیا ہے تیرا شہکار تو فی النار نہیں ہو سکتا اے حقیقت کو فقط خواب سمجھنے والے تو کبھی صاحب اسرار نہیں ہو سکتا تو ...
تو جو بدلا تو زمانہ بھی بدل جائے گا گھر جو سلگا تو بھرا شہر بھی جل جائے گا سامنے آ کہ مرا عشق ہے منطق میں اسیر آگ بھڑکی تو یہ پتھر بھی پگھل جائے گا دل کو میں منتظر ابر کرم کیوں رکھوں پھول ہے قطرۂ شبنم سے بہل جائے گا موسم گل اگر اس حال میں آیا بھی تو کیا خون گل چہرۂ گلزار پہ مل ...
جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر ...
شام کو صبح چمن یاد آئی کس کی خوشبوئے بدن یاد آئی جب خیالوں میں کوئی موڑ آیا تیرے گیسو کی شکن یاد آئی یاد آئے ترے پیکر کے خطوط اپنی کوتاہیٔ فن یاد آئی چاند جب دور افق پر ڈوبا تیرے لہجے کی تھکن یاد آئی دن شعاعوں سے الجھتے گزرا رات آئی تو کرن یاد آئی