قومی زبان

ہم دن کے پیامی ہیں مگر کشتۂ شب ہیں

ہم دن کے پیامی ہیں مگر کشتۂ شب ہیں اس حال میں بھی رونق عالم کا سبب ہیں ظاہر میں ہم انسان ہیں مٹی کے کھلونے باطن میں مگر تند عناصر کا غضب ہیں ہیں حلقۂ زنجیر کا ہم خندۂ جاوید زنداں میں بسائے ہوئے اک شہر طرب ہیں چٹکی ہوئی یہ حسن گریزاں کی کلی ہے یا شدت جذبات سے کھلتے ہوئے لب ...

مزید پڑھیے

وہ کوئی اور نہ تھا چند خشک پتے تھے

وہ کوئی اور نہ تھا چند خشک پتے تھے شجر سے ٹوٹ کے جو فصل گل پہ روئے تھے ابھی ابھی تمہیں سوچا تو کچھ نہ یاد آیا ابھی ابھی تو ہم اک دوسرے سے بچھڑے تھے تمہارے بعد چمن پر جب اک نظر ڈالی کلی کلی میں خزاں کے چراغ جلتے تھے تمام عمر وفا کے گناہ گار رہے یہ اور بات کہ ہم آدمی تو اچھے تھے شب ...

مزید پڑھیے

درانتی

چمک رہے ہیں درانتی کے تیز دندانے خمیدہ ہل کی یہ الھڑ جوان نور نظر سنہری فصل میں جس وقت غوطہ زن ہوگی تو ایک گیت چھڑے گا مسلسل اور دراز ندیمؔ ازل سے ہے تخلیق کا یہی انداز ستارے بوئے گئے آفتاب کاٹے گئے ہم آفتاب ضمیر جہاں میں بوئیں گے تو ایک روز عظیم انقلاب کاٹیں گے کوئی بتائے زمیں کے ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

چھٹپٹے کے غرفے میں لمحے اب بھی ملتے ہیں صبح کے دھندلکے میں پھول اب بھی کھلتے ہیں اب بھی کوہساروں پر سر کشیدہ ہریالی پتھروں کی دیواریں توڑ کر نکلتی ہے اب بھی آب زاروں پر کشتیوں کی صورت میں زیست کی توانائی زاویے بدلتی ہے اب بھی گھاس کے میداں شبنمی ستاروں سے میرے خاکداں پر ...

مزید پڑھیے

ایک درخواست

زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیں دیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہے سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہے کیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہے سانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگر زندہ ...

مزید پڑھیے

شرارت

اک بکس کہیں سے لائیں گے روغن سے اسے چمکائیں گے اک ڈبے میں باسی پھلکوں کا اک انبار لگائیں گے لڑکوں سے کہیں گے آؤ گرامو فون فون تمہیں سنوائیں گے صندوق اور ڈبہ کھول کے پھر ناچیں گے شور مچائیں گے آج اپنے ہر ہمجولی کو ہم الو خوب بنائیں گے امجد چونی اور تلسی کو دعوت پہ بلایا جائے گا اک ...

مزید پڑھیے

بہت سے بچوں کا گھر

ابا تو چلے گئے ہیں دفتر امی کو بخار آ رہا ہے چھمن تو گیا ہوا ہے بازار جمن کھانا پکا رہا ہے زیبن کو اسی کا تازہ بچہ پکا گانا سنا رہا ہے امجد صوفے پر کوئلے سے کالا طوطا بنا رہا ہے اسلم دادی کی لے کے تصویر اس کی مونچھیں اگا رہا ہے توقیر بلیڈ کے کمالات قالین پہ آزما رہا ہے چھ سات ...

مزید پڑھیے

لرزتے سائے

وہ فسانہ جسے تاریکی نے دہرایا ہے میری آنکھوں نے سنا میری آنکھوں میں لرزتا ہوا قطرہ جاگا میری آنکھوں میں لرزتے ہوئے قطرے نے کسی جھیل کی صورت لے لی جس کے خاموش کنارے پہ کھڑا کوئی جواں دور جاتی ہوئی دوشیزہ کو حسرت و یاس کی تصویر بنے تکتا ہے حسرت و یاس کی تصویر چھناکا سا ہوا اور پھر ...

مزید پڑھیے

تدفین

تدفین چار طرف سناٹے کی دیواریں ہیں اور مرکز میں اک تازہ تازہ قبر کھدی ہے کوئی جنازہ آنے والا ہے کچھ اور نہیں تو آج شہادت کا کلمہ سننے کو ملے گا کانوں کے اک صدی پرانے قفل کھلیں گے آج مری قلاش سماعت کو آواز کی دولت ارزانی ہوگی دیواروں کے سائے میں اک بہت بڑا انبوہ نمایاں ہوتا ہے جو ...

مزید پڑھیے

جنگل کی آگ

آگ جنگل میں لگی تھی لیکن بستیوں میں بھی دھواں جا پہنچا ایک اڑتی ہوئی چنگاری کا سایہ پھیلا تو کہاں جا پہنچا تنگ گلیوں میں امڈتے ہوئے لوگ گو بچا لائے ہیں جانیں اپنی اپنے سر پر ہیں جنازے اپنے اپنے ہاتھوں میں زبانیں اپنی آگ جب تک نہ بجھے جنگل کی بستیوں تک کوئی جاتا ہی نہیں حسن اشجار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5567 سے 6203