مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں
مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں ندیمؔ کاش یہی ایک کام کر جاؤں یہ دشت ترک محبت یہ تیرے قرب کی پیاس جو اذن ہو تو تری یاد سے گزر جاؤں مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں ترے جمال کا پرتو ہے سب حسینوں پر کہاں کہاں تجھے ڈھونڈوں کدھر کدھر جاؤں میں ...