قومی زبان

ازلی مسرتوں کی ازلی منزل

مٹیالے مٹیالے بادل گھوم رہے ہیں میدانوں کے پھیلاؤ پر دریا کی دیوانی موجیں ہمک ہمک کر ہنس دیتی ہیں اک ناؤ پر سامنے اودے سے پربت کی ابر آلودہ چوٹی پر ہے ایک شوالا جس کے عکس کی تابانی سے پھیل رہا ہے چاروں جانب ایک اجالا جھلمل کرتی ایک مشعل سے محرابوں کے گہرے سائے رقصیدہ ہیں ہر سو ...

مزید پڑھیے

وقفہ

راستہ نہیں ملتا منجمد اندھیرا ہے پھر بھی با وقار انساں اس یقیں پہ زندہ ہے برف کے پگھلنے میں پو پھٹے کا وقفہ ہے اس کے بعد سورج کو کون روک سکتا ہے

مزید پڑھیے

تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا

تیری محفل بھی مداوا نہیں تنہائی کا کتنا چرچا تھا تری انجمن آرائی کا داغ دل نقش ہے اک لالۂ صحرائی کا یہ اثاثہ ہے مری بادیہ پیمائی کا جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا وہ ترے جسم کی قوسیں ہوں کہ محراب حرم ہر حقیقت میں ملا خم تری انگڑائی کا افق ...

مزید پڑھیے

دعویٰ تو کیا حسن جہاں سوز کا سب نے

دعویٰ تو کیا حسن جہاں سوز کا سب نے دنیا کا مگر روپ بڑھایا تری چھب نے تو نیند میں بھی میری طرف دیکھ رہا تھا سونے نہ دیا مجھ کو سیہ چشمئ شب نے ہر زخم پہ دیکھی ہیں ترے پیار کی مہریں یہ گل بھی کھلائے ہیں تیری سرخی لب نے خوشبوئے بدن آئی ہے پھر موج صبا سے پھر کس کو پکارا ہے ترے شہر طرب ...

مزید پڑھیے

اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا

اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا الزام نہ دھر عشق پہ شوریدہ سری کا اس وقت مرے کلبۂ غم میں ترا آنا بھٹکا ہوا جھونکا ہے نسیم سحری کا تجھ سے ترے کوچے کا پتہ پوچھ رہا ہوں اس وقت یہ عالم ہے مری بے خبری کا یہ فرش ترے رقص سے جو گونج رہا ہے ہے عرش معلی مری عالی نظری کا کہرے میں تڑپتے ...

مزید پڑھیے

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے

کھڑا تھا کب سے زمیں پیٹھ پر اٹھائے ہوئے آب آدمی ہے قیامت سے لو لگائے ہوئے یہ دشت سے امڈ آیا ہے کس کا سیل جنوں کہ حسن شہر کھڑا ہے نقاب اٹھائے ہوئے یہ بھید تیرے سوا اے خدا کسے معلوم عذاب ٹوٹ پڑے مجھ پہ کس کے لائے ہوئے یہ سیل آب نہ تھا زلزلہ تھا پانی کا بکھر بکھر گئے قریے مرے بسائے ...

مزید پڑھیے

جب بھی آنکھوں میں تری رخصت کا منظر آ گیا

جب بھی آنکھوں میں تری رخصت کا منظر آ گیا آفتاب وقت نیزے کے برابر آ گیا دوستی کی جب دہائی دی تو شرق و غرب سے ہاتھ میں پتھر لیے یاروں کا لشکر آ گیا اس سفر میں گو تمازت تو بہت تھی ہجر کی میں تری یادوں کی چھاؤں سر پہ لے کر آ گیا گو زمین و آسماں مصروف گردش ہیں مگر جب بھی گردش کا سبب ...

مزید پڑھیے

گل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں

گل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں جل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میں مجھ سے کترا کے نکل جا مگر اے جان حیا دل کی لو دیکھ رہا ہوں ترے رخساروں میں حسن بیگانۂ احساس جمال اچھا ہے غنچے کھلتے ہیں تو بک جاتے ہیں بازاروں میں ذکر کرتے ہیں ترا مجھ سے بعنوان جفا چارہ گر پر پرو لائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5565 سے 6203