ازلی مسرتوں کی ازلی منزل
مٹیالے مٹیالے بادل گھوم رہے ہیں میدانوں کے پھیلاؤ پر دریا کی دیوانی موجیں ہمک ہمک کر ہنس دیتی ہیں اک ناؤ پر سامنے اودے سے پربت کی ابر آلودہ چوٹی پر ہے ایک شوالا جس کے عکس کی تابانی سے پھیل رہا ہے چاروں جانب ایک اجالا جھلمل کرتی ایک مشعل سے محرابوں کے گہرے سائے رقصیدہ ہیں ہر سو ...