قومی زبان

اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے جہاں سے پھول ٹوٹا تھا وہیں سے کلی سی اک نمایاں ہو رہی ہے جہاں بجلی گری تھی اب وہی شاخ نئے پتے پہن کر تن گئی ہے خزاں سے رک سکا کب موسم گل یہی اصل اصول زندگی ہے اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ کھنڈر سے کل جہاں بکھرے پڑے تھے وہیں سے آج ایواں ...

مزید پڑھیے

معیار

شاعر اب تک تو یہ کہتا تھا کہ میرا محبوب کچھ اس انداز سے چپ چاپ مرے پاس آیا جیسے پھولوں پہ اترتی ہے سبک پا شبنم لیکن اس دور کو کیا جانیے کیا روگ لگا اب تو محبوب کی آمد بھی نہیں حشر سے کم ایک اک سانس میں ہیں کتنے چھناکے برپا اب تو مس کرتی ہے جب ایسے عذار گل سے ایسی آواز سے گونج اٹھتی ...

مزید پڑھیے

جدید تر

تجھ سے اک عمر کا پیماں تھا مگر میرا نصیب انقلابات کا محکوم ہوا جاتا ہے وہ تصور جو کئی بار نکھارا میں نے اتنا موہوم ہے معدوم ہوا جاتا ہے تیری آنکھوں میں جگائے تھے ستارے میں نے اور چھلکائے تھے گالوں میں حیاؤں کے ایاغ کوئی احساس نہ تھا وقت کی گردش کا مجھے ورنہ کیا رات سے ملتا نہیں ...

مزید پڑھیے

دعا

مجھے تو مژدۂ کیفیت دوامی دے مرے خدا مجھے اعزاز ناتمامی دے میں تیرے چشمۂ رحمت سے کام کام رہوں کبھی کبھی مجھے احساس تشنہ کامی دے مجھے کسی بھی معزز کا ہم رکاب نہ کر میں خود کماؤں جسے بس وہ نیک نامی دے وہ لوگ جو کئی صدیوں سے ہیں نشیب نشیں بلند ہوں تو مجھے بھی بلند بامی دے تری زمین یہ ...

مزید پڑھیے

لذت آگہی

میں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوں یہی آگہی مرا لطف ہے مرا کرب ہے کہ میں جانتا ہوں میں جانتا ہوں کہ دل میں جتنی صداقتیں ہیں وہ تیر ہیں جو چلیں تو نغمہ سنائی دے جو ہدف پہ جا کے لگیں تو کچھ بھی نہ بچ سکے کہ صداقتوں کی نفی ہماری حیات ہے مرے دل میں ایسی حقیقتوں نے پناہ لی ہے کہ جن پہ ایک ...

مزید پڑھیے

روح لبوں تک آ کر سوچے

روح لبوں تک آ کر سوچے کیسے چھوڑوں قریۂ جاں یوسف قصر شہی میں بھی کب بھولا کنعاں کی گلیاں موت قریب آئی تو دنیا کتنی مقدس لگتی ہے کاہش دل بھی خواہش دل ہے آفت جاں بھی راحت جاں میری وحشت کو تو بہت تھی گوشۂ چشم یار کی سیر یوں تو عدم میں وسعت ہوگی عرش بہ عرش کراں بہ کراں غنچے اب تک رنگ ...

مزید پڑھیے

پس آئینہ

مجھے جمال بدن کا ہے اعتراف مگر میں کیا کروں کہ ورائے بدن بھی دیکھتا ہوں یہ کائنات فقط ایک رخ نہیں رکھتی چمن بھی دیکھتا ہوں اور بن بھی دیکھتا ہوں مری نظر میں ہیں جب حسن کے تمام انداز میں فن بھی دیکھتا ہوں فکر و فن بھی دیکھتا ہوں نکل گیا ہوں فریب نگاہ سے آگے میں آسماں کو شکن در شکن ...

مزید پڑھیے

ریستوراں

ریستوراں میں سجے ہوئے ہیں کیسے کیسے چہرے قبروں کے کتبوں پر جیسے مسلے مسلے سہرے اک صاحب جو سوچ رہے ہیں پچھلے ایک پہر سے یوں لگتے ہیں جیسے بچہ روٹھ آیا ہو گھر سے کافی کی پیالی کو لبوں تک لائیں تو کیسے لائیں بیرے تک سے آنکھ ملا کر بات جو نہ کر پائیں کتنی سنجیدہ بیٹھی ہے یہ احباب کی ...

مزید پڑھیے

قانون قدرت

گلیوں کی شمعیں بجھ گئیں اور شہر سونا ہو گیا بجلی کا کھمبا تھام کر بانکا سپاہی سو گیا تاریکیوں کی دیویاں کرنے لگیں سرگوشیاں اک دھیمی دھیمی تان میں گانے لگیں خاموشیاں مشرق کے پربت سے ورے ابھریں گھٹائیں یک بیک انگڑائیاں لینے لگیں بے خود ہوائیں یک بیک تارے نگلتی بدلیاں چاروں طرف ...

مزید پڑھیے

ایک یاد کا روزن

میری یادوں میں سے ایک یاد مجھے تا دم مرگ نہیں بھولے گی میری اس یاد کا روزن دریچہ ہے جس میں سے مجھے کتنے گزرے ہوئے پل صاف نظر آتے ہیں کچی مٹی کو جو تختی پہ چلاؤں تو یہ دھرتی جیسے اپنی خوشبو میں مجھے نہلائے روشنائی میں قلم کو جو ڈوبو دوں تو مجھے روز ازل یاد آئے لفظ لکھوں سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5564 سے 6203