وقت
سر برآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں چاند بلور کی ٹوٹی ہوئی چوڑی کی طرح اٹکا ہے دامن کوہ کی اک بستی میں ٹمٹماتے ہیں مزاروں پہ چراغ آسماں سرمئی فرغل میں ستارے ٹانکے سمٹا جاتا ہے جھکا آتا ہے وقت بے زار نظر آتا ہے سر برآوردہ صنوبر کی گھنی شاخوں میں صبح کی نقرئی تنویر رچی جاتی ہے دامن ...