رخسار ہیں یا عکس ہے برگ گل تر کا
رخسار ہیں یا عکس ہے برگ گل تر کا چاندی کا یہ جھومر ہے کہ تارا ہے سحر کا یہ آپ ہیں یا شعبدۂ خواب جوانی یہ رات حقیقت ہے کہ دھوکا ہے نظر کا
رخسار ہیں یا عکس ہے برگ گل تر کا چاندی کا یہ جھومر ہے کہ تارا ہے سحر کا یہ آپ ہیں یا شعبدۂ خواب جوانی یہ رات حقیقت ہے کہ دھوکا ہے نظر کا
آنسوؤں میں بھگو کے آنکھوں کو دیکھتے ہو تو خاک دیکھو گے آئنے کو ذرا سا نم کر دو پیرہن چاک چاک دیکھو گے
خموش جھیل پہ کیوں ڈولنے لگا بجرا ہوائیں تند نہیں ہیں کنارہ دور نہیں بھنور کا ذکر نہ کر زندگی کا لطف نہ چھین مجھے ابھی کسی انجام کا شعور نہیں
ایک رقاصہ تھی کس کس سے اشارے کرتی آنکھیں پتھرائی اداؤں میں توازن نہ رہا ڈگمگائی تو سب اطراف سے آواز آئی ''فن کے اس اوج پہ اک تیرے سوا کون گیا'' فرش مرمر پہ گری گر کے اٹھی اٹھ کے جھکی خشک ہونٹوں پہ زباں پھیر کے پانی مانگا اوک اٹھائی تو تماشائی سنبھل کر بولے رقص کا یہ بھی اک انداز ہے ...
ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کار ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوں میں ترے سامنے انبار لگا دوں لیکن کون سے رنگ کا پتھر ترے کام آئے گا سرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ...
کتنی ویران ہے یہ محفل شب نہ ستارے نہ چراغ اک گھنی دھند ہے گردوں پہ محیط چاند ہے چاند کا داغ پھیلتے جاتے ہیں منظر کے خطوط بجھتا جاتا ہے دماغ راستے گھل گئے تاریکی میں توڑ کر زعم سفر کون حد نظر دیکھ سکے مٹ گئی حد نظر سیکڑوں منزلیں طے کر تو چکے لیکن اب جائیں کدھر آسماں ہے نہ زمیں ہے ...
مجھے سمیٹو میں ریزہ ریزہ بکھر رہا ہوں نہ جانے میں بڑھ رہا ہوں یا اپنے ہی غبار سفر میں ہر پل اتر رہا ہوں نہ جانے میں جی رہا ہوں یا اپنے ہی تراشے ہوئے نئے راستوں کی تنہائیوں میں ہر لحظہ مر رہا ہوں میں ایک پتھر سہی مگر ہر سوال کا بازگشت بن کر جواب دوں گا مجھے پکارو مجھے صدا دو میں ایک ...
مہرباں رات نے اپنی آغوش میں کتنے ترسے ہوئے بے گناہوں کو بھینچا دلاسا دیا اور انہیں اس طرح کے گناہوں کی ترغیب دی جس طرح کے گناہوں سے میلاد آدم ہوا تھا
اپنے ماضی کے گھنے جنگل سے کون نکلے گا! کہاں نکلے گا بے کراں رات ستارے نابود چاند ابھرا ہے؟ کہاں ابھرا ہے؟ اک فسانہ ہے تجلی کی نمود کتنے گنجان ہیں اشجار بلند کتنا موہوم ہے آدم کا وجود مضمحل چال قدم بوجھل سے اپنے ماضی کے گھنے جنگل سے مجھ کو سوجھی ہے نئی راہ فرار آہن و سنگ و شرر ...
یوم مزاجی یاروں کی سب میری دیکھی بھالی رات کی تاریکی میں ان کی انگارہ سی آنکھیں پوری دن کو اندھی اور ادھوری خالی دن کے یہ درویش مگر راتوں کے والی اپنے محسن کو جب دن کے آئینے میں دیکھیں فرط ادب سے سمٹیں سکڑیں جھک جائیں اور کچلے مسئلے روندے لہجے میں پوچھیں کیسا ہے مزاج عالی رات کو ...