رنگ جب اپنی حقیقت سے شناسا ہو جائے
رنگ جب اپنی حقیقت سے شناسا ہو جائے لالہ زاروں میں بھڑکتا ہے الاؤ بن کر رقص جب دائرۂ فن سے ابل پڑتا ہے دندناتا ہے سمندر کا بہاؤ بن کر
رنگ جب اپنی حقیقت سے شناسا ہو جائے لالہ زاروں میں بھڑکتا ہے الاؤ بن کر رقص جب دائرۂ فن سے ابل پڑتا ہے دندناتا ہے سمندر کا بہاؤ بن کر
آنکھ کھل جاتی ہے جب رات کو سوتے سوتے کتنی سونی نظر آتی ہے گزر گاہ حیات ذہن و وجدان میں یوں فاصلے تن جاتے ہیں شام کی بات بھی لگتی ہے بہت دور کی بات
کبھی نہ پلٹے گی بیتی ہوئی گھڑی لیکن تصورات سے دل خوش ہیں نوع انساں کے وہ کس کے ہاتھ کے ہیں منتظر خدا جانے لرزتے رہتے ہیں پردے حریم جاناں کے
لڑکیاں چنتی ہیں گیہوں کی سنہری بالیاں کاٹتے ہیں گھاس مینڈھوں پر سے بانکے نوجواں کھوئی کھوئی ایک لڑکی بیریوں کی چھاؤں میں دیکھتی ہے گھاس پر لیٹی ہوئی جانے کہاں
گلی کے موڑ پہ بچوں کے ایک جمگھٹ میں کسی نے درد بھرے لے میں ماہیا گایا مجھے کسی سے محبت نہیں مگر اے دل یہ کیا ہوا کہ تو بے اختیار بھر آیا
جسے ہر شعر پر دیتے تھے تم داد وہی رنگیں نوا خونیں نوا ہے اب ان رنگوں کے نیچے دھیرے دھیرے لہو کا ایک دریا بہہ رہا ہے
یہ فضا، یہ گھاٹیاں، یہ بدلیاں یہ بوندیاں کاش اس بھیگے ہوئے پربت سے لہراتی ہوئی دھیرے دھیرے ناچتی آئے صبوحی اور پھر گھل کے کھو جائے کہیں میری غزل گاتی ہوئی
وہ پانی بھرنے چلی اک جوان پنساری وہ گورے ٹخنوں پہ پازیب چھنچھناتی ہے غضب غضب کہ مرے دل کی سرد راکھ سے پھر کسی کی تپتی جوانی کی آنچ آتی ہے
برس کے چھٹ گئے بادل ہوائیں گاتی ہیں گرجتے نالوں میں چرواہیاں نہاتی ہیں وہ نیلی دھوئی ہوئی گھاٹیوں سے دو گونجیں کسی کو دکھ بھری آواز میں بلاتی ہیں
وہ دور جھیل کے پانی میں تیرتا ہے چاند پہاڑیوں کے اندھیروں پہ نور چھانے لگا وہ ایک کھوہ میں اک بد نصیب چرواہا بھگو کے آنسوؤں میں ایک گیت گانے لگا