اداس چاند نے بدلی کی آڑ میں ہو کر
اداس چاند نے بدلی کی آڑ میں ہو کر کنارے ملگجے بادل کے کر دیئے روشن شب فراق میں جیسے تصور رخ دوست دل حزیں کے اندھیرے میں روشنی کی کرن
اداس چاند نے بدلی کی آڑ میں ہو کر کنارے ملگجے بادل کے کر دیئے روشن شب فراق میں جیسے تصور رخ دوست دل حزیں کے اندھیرے میں روشنی کی کرن
بات کہنے کا جو ڈھب ہو تو ہزاروں باتیں ایک ہی بات میں کہہ جاتے ہیں کہنے والے لیکن ان کے لیے ہر لفظ کا مفہوم ہے ایک کتنے بے درد ہیں اس شہر کے رہنے والے
کھڑکھڑاتی ڈول وہ دھم سے کنویں میں گر گئی دم بخود پنہاریاں کنگن گھماتی رہ گئیں وہ کنویں میں ایک چرواہا اترنے کو بڑھا وہ صبوحی کی نگاہیں مسکراتی رہ گئیں
تمتماتے ہیں سلگتے ہوئے رخسار ترے آنکھ بھر کر کوئی دیکھے گا تو جل جائے گا اتنا سیال ہے یہ پل کہ گماں ہوتا ہے میں ترے جسم کو چھو لوں تو پگھل جائے گا
گلوں میں رنگ تو تھا رنگ میں جلن تو نہ تھی مہک میں کیف تو تھا کیف میں جنوں تو نہ تھا بدل دیا ترے غم نے بہار کا کردار کہ اب سے قبل چمن کا مزاج یوں تو نہ تھا
آج پنگھٹ پہ یہ گاتا ہوا کون آ نکلا لڑکیاں گاگریں بھرتی ہوئی گھبرا سی گئیں اوڑھنی سر پہ جما کر وہ صبوحی اٹھی انکھڑیاں چار ہوئیں جھک گئیں شرما سی گئیں
عید کا دن ہے فضا میں گونجتے ہیں قہقہے جھولتی ہیں لڑکیاں جھولوں پہ گاتی ہیں ملہار میرا جھولا جس سے ہیں لپٹے ہوئے سرسوں کے پھول دیکھتا ہے ایک نکڑ کو لپک کر بار بار
گورے ہاتھوں میں یہ دھانی چوڑیوں کی آن بان کالی زلفوں پر گلابی اوڑھنی کی آب و تاب ہر قدم پر نقرئی خلخال کے نغموں کی لہر تیرے پیکر میں مجسم ہو گئی روح شباب
ریشۂ گل کو رگ سنگ بنانے والو بوئے گل سنگ سے ٹپکے گی شرارے بن کر تم کو معلوم تو ہوگا کہ اجالا دن کا سینۂ شب میں دھڑکتا ہے ستارے بن کر
پو پھٹے رینگتے جھرنے پہ یہ کون آیا ہے بال بکھرے ہوئے لپٹے ہوئے خواب آنکھوں سے لوٹ لیں تشنگئ زیست نے نیندیں ورنہ یوں پیاپے نہ برستی مئے ناب آنکھوں سے