میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث
میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث آج سے تیری جستجو ہے عبث سادگی میں ہے لاکھ لاکھ بناؤ آئنہ تیرے روبرو ہے عبث مجھ کو دونوں سے کچھ مزا نہ ملا دل عبث دل کی آرزو ہے عبث باد آب آگ خاک گرد روح زشت رویوں میں خوبرو ہے عبث طور و موسیٰ ہیں ذرہ ذرہ میں کب ترا جلوہ چار سو ہے عبث لپٹے ہیں ...