قومی زبان

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث آج سے تیری جستجو ہے عبث سادگی میں ہے لاکھ لاکھ بناؤ آئنہ تیرے روبرو ہے عبث مجھ کو دونوں سے کچھ مزا نہ ملا دل عبث دل کی آرزو ہے عبث باد آب آگ خاک گرد روح زشت‌ رویوں میں خوبرو ہے عبث طور‌ و موسیٰ ہیں ذرہ ذرہ میں کب ترا جلوہ چار سو ہے عبث لپٹے ہیں ...

مزید پڑھیے

کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض

کھڑے ہیں موسیٰ اٹھاؤ پردا دکھاؤ تم آب و تاب عارض حجاب کیوں ہے کہ خود تجلی بنی ہوئی ہے حجاب عارض نہ رک سکے گی ضیائے عارض جو سد رہ ہو نقاب عارض وہ ہوگی بے پردہ رکھ کے پردا غضب کی چنچل ہے تاب عارض چھپا نہ منہ دونوں ہاتھ سے یوں تڑپتی ہے برق تاب عارض لگا نہ دے آگ انگلیوں میں یہ گرمیٔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5559 سے 6203