قومی زبان

جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف

جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف گردش میں چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرف عارض پہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف ہیں آج دو سورج گہن ایک اس طرف ایک اس طرف مطلب اشاروں سے کہا میں ان اشاروں کے فدا آنکھیں بھی ہیں گرم سخن ایک اس طرف ایک اس طرف جس دم سکندر مر گیا حال تہی دستی ...

مزید پڑھیے

چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا

چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا چلمن تو بیچ میں ہے اشارے ہوئے تو کیا بوسہ دہی کا لطف ملا حسن بڑھ گیا رخسار لال لال تمہارے ہوئے تو کیا بے پردہ منہ دکھا کے مرے ہوش اڑاؤ تم پردے کی آڑ سے جو نظارے ہوئے تو کیا مجھ کو کڑھا کڑھا کے وہ ماریں گے جان سے دلبر ہوئے تو کیا مرے پیارے ہوئے ...

مزید پڑھیے

کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب

کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب اعمال نامہ کا تو ہے پیشانی پر جواب رک رک کے ہنس کے یوں ہی تو دے فتنہ گر جواب دیتا ہے اور لطف مجھے تیرا ہر جواب کس سے مثال دوں تری زلف دراز کو عمر‌ طویل خضر ہے اک مختصر جواب مشکل کے وقت دل ہی سے کچھ مشورہ کریں کیوں دیں کسی کو غیر سے ہم پوچھ کر ...

مزید پڑھیے

وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ

وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ ہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذ وہ ہم نہیں جو ہوں دیوانے ایسے کاموں سے کسے پلاتے ہو پانی میں گھول کر تعویذ اٹھے گا پھر نہ کلیجے میں میٹھا میٹھا درد اگر لکھے مرے دل پر تری نظر تعویذ کہاں وہ لوگ کہ جن کے عمل کا شہرا تھا کچھ اس زمانے میں ...

مزید پڑھیے

قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو

قبلۂ آب و گل تمہیں تو ہو کعبۂ جان و دل تمہیں تو ہو لا مکاں دور دل بہت نزدیک منفصل متصل تمہیں تو ہو میرے پہلو میں دل نہ کیوں ہو خوش دل کے پہلو میں دل تمہیں تو ہو تم سے مل کر خجل ہمیں تو ہیں ہم سے چھٹ کر خجل تمہیں تو ہو دل کی سختی کا ہے گلہ تم سے جس نے رکھی یہ سل تمہیں تو ہو جیتے جی ...

مزید پڑھیے

آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شراب

آفتاب آئے چمک کر جو سر جام شراب رند سمجھیں کہ ہے صادق سحر‌ جام شراب سب کے ہاتھوں پہ تھا شب بھر سفر جام شراب ہر خط دست بنا رہ گزر جام شراب دختر رز پہ گریں مست پتنگوں کی طرح شمع محفل ہو یہ لخت جگر جام شراب تھام لے دست سبو آئے جو چلنے میں لچک خط بغداد ہو موئے کمر جام شراب طور سینا ...

مزید پڑھیے

کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشق

کوئی حسین ہے مختار کار خانۂ عشق کہ لا مکاں ہی کی چوکھٹ ہے آستانۂ عشق نگاہیں ڈھونڈھ رہی ہیں دل یگانۂ عشق اشارے پوچھ رہے ہیں کہاں ہے خانۂ عشق پھریں گے حشر میں گرد دل یگانۂ عشق کریں گے پیش خدا ہم طواف خانۂ عشق نئی صدا ہو نئے ہونٹھ ہوں نیا لہجہ نئی زباں سے کہوں گر کہوں فسانۂ ...

مزید پڑھیے

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں وصل کا لطف مجھے وصل سے پہلے ہی ملا جب کہا یار نے گھبرا کے یہ کیا کرتے ہیں اس قدر تھا مجھے الفت میں بھروسا ان پر کی جفا بھی تو یہ سمجھا کہ وفا کرتے ہیں ہے یہی عرض خدا سے کہ فلاں بت مل جائے وہی اچھے جو نمازوں ...

مزید پڑھیے

محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز

محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز پڑھ لونگا پل صراط پہ مائلؔ قضا نماز سر جائے عمر بھر کی ہو یا رب ادا نماز آئے مری قضا تو پڑھوں میں قضا نماز مانگی نجات ہجر سے تو موت آ گئی روزے گلے پڑے جو چھڑانے گیا نماز دیکھو کہ پھنس نہ جائیں فرشتے بھی جال میں کیوں پڑھ رہے ہو کھول کے زلف رسا ...

مزید پڑھیے

وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں

وہ پارہ ہوں میں جو آگ میں ہوں وہ برق ہوں جو سحاب میں ہوں زمیں پہ بھی اضطراب میں ہوں فلک پہ بھی اضطراب میں ہوں نہ میں ہوا میں نہ خاک میں ہوں نہ آگ میں ہوں نہ آب میں ہوں شمار میرا نہیں کسی میں اگرچہ میں بھی حساب میں ہوں اگرچہ پانی کی موج بن کر ہمیشہ میں پیچ و تاب میں ہوں وہی ہوں قطرہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5558 سے 6203