جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف
جنبش میں زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف گردش میں چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرف عارض پہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف ہیں آج دو سورج گہن ایک اس طرف ایک اس طرف مطلب اشاروں سے کہا میں ان اشاروں کے فدا آنکھیں بھی ہیں گرم سخن ایک اس طرف ایک اس طرف جس دم سکندر مر گیا حال تہی دستی ...