زندگی
نہ میں مرا ہوں نہ تم مری ہو ملے تھے جب پہلی بار کتنے کئے تھے وعدے کھائی کتنی تھی ہم نے قسمیں نہیں جئیں گے جو مل نہ پائے مگر نہ ذہنوں میں تھیں ہمارے وہ مردہ رسمیں جو زندہ رکھتی ہیں قید کر کے روایتوں کے اندھے پتھریلے محبسوں میں
نہ میں مرا ہوں نہ تم مری ہو ملے تھے جب پہلی بار کتنے کئے تھے وعدے کھائی کتنی تھی ہم نے قسمیں نہیں جئیں گے جو مل نہ پائے مگر نہ ذہنوں میں تھیں ہمارے وہ مردہ رسمیں جو زندہ رکھتی ہیں قید کر کے روایتوں کے اندھے پتھریلے محبسوں میں
کب تک بوجھل پلکوں سے اشکوں کے ستارے ٹوٹیں گے کب تک آہیں سسک سسک کر ہونٹوں پر دم توڑیں گی کب تک میں یاس و امید کے دوراہے پر ڈولوں گا کب تک تیری یادیں میرے ٹوٹے سپنے جوڑیں گی
تیرے حصے کے بھی صدمات اٹھا لیتا ہوں آ تجھے آنکھوں پہ اے رات اٹھا لیتا ہوں عام سا شخص بچے گا تو اگر میں تیرے خال و خد سے یہ طلسمات اٹھا لیتا ہوں تو نے اے عشق یہ سوچا کہ ترا کیا ہوگا تیرے سر سے میں اگر ہاتھ اٹھا لیتا ہوں یہ اگر جنگ محبت ہے مرے یار تو پھر ایسا کرتا ہوں کہ میں مات ...
مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں ہم سہمے ہوئے لوگ ہیں ہمت سے گریزاں اک پل کا توقف بھی گراں بار ہے تجھ پر اور ہم کہ تھکے ہارے مسافت سے گریزاں اے بھولے ہوئے ہجر کہیں مل تو سہی یار اک دوجے سے ہم دونوں ہیں مدت سے گریزاں جا تجھ کو کوئی جسم سے آگے نہ پڑھے گا اے مجھ سے خفا میری محبت سے ...
زندہ رہنے کا تقاضا نہیں چھوڑا جاتا ہم نے تجھ کو نہیں چھوڑا نہیں چھوڑا جاتا عین ممکن ہے ترے ہجر سے مل جائے نجات کیا کریں یار یہ صحرا نہیں چھوڑا جاتا چھوڑ جاتی ہے بدن روح بھی جاتے جاتے قید سے کوئی بھی پورا نہیں چھوڑا جاتا اس قدر ٹوٹ کے ملنے میں ہے نقصان کہ جب کھیت پیاسے ہوں تو ...
تمہارے ہجر کو کافی نہیں سمجھتا میں کسی ملال کو حتمی نہیں سمجھتا میں یہ اور بات کہ عاری ہے دل محبت سے یہ دکھ سوا ہے کہ عاری نہیں سمجھتا میں چلا ہے رات کے ہمراہ چھوڑ کر مجھ کو چراغ اس کو تو یاری نہیں سمجھتا میں میں انہماک سے اک انتظار جی رہا ہوں مگر یہ کام ضروری نہیں سمجھتا ...
یہ جو بیدار دکھائی دیا ہوں آخری بار دکھائی دیا ہوں وہاں مشکل تھا سنائی دیتا شکر ہے یار دکھائی دیا ہوں آ حراست سے چھڑا ہجراں کو میں گرفتار دکھائی دیا ہوں پاؤں باندھے ہیں وفا سے جب نے تیز رفتار دکھائی دیا ہوں جھیل میں چاند گرا تھا اور میں جھیل کے پار دکھائی دیا ہوں مجھ پہ ...
خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے جان و تن لگتے ہیں پورے پورے راس آئے گی محبت اس کو جس سے ہوتے نہیں وعدے پورے چھوڑ آئے ترے حصے کے دوست ہم نے منظر نہیں دیکھے پورے گفتگو ہوش ربا ہے اس کی اس کی باتیں ہیں صحیفے پورے ہجر اور رات تقابل میں ہیں اشک پورے کہ ستارے پورے یاد ہوں آدھا سا خود کو ...
تو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا میں زیادہ کو میسر نہیں آیا کرتا میں ترا وقت ہوں اور روٹھ کے جانے لگا ہوں روک لے یار میں جا کر نہیں آیا کرتا اے پلٹ آنے کی خواہش یہ ذرا دھیان میں رکھ جنگ سے کوئی برابر نہیں آیا کرتا چند پیڑوں کو ہی مجنوں کی دعا ہوتی ہے سب درختوں پہ تو پتھر نہیں ...
دانۂ گندم بیدار اٹھانے لگا ہوں خاک ہوں خاک کا آزار اٹھانے لگا ہوں کرۂ ہجر سے ہونا ہے نمودار مجھے میں ترے عشق کا انکار اٹھانے لگا ہوں لو نے سردار کیے رکھا ہے شب بھر تم کو اے چراغو میں یہ دستار اٹھانے لگا ہوں یہ کھلی جنگ ہے اور جنگ بھی ہے اپنے خلاف اس لیے اپنے طرف دار اٹھانے لگا ...