قومی زبان

کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے

کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے ہمیں ہوا کی زد میں تھے ہمیں شکار ہو گئے سیاہ دشت خار سے کہاں دو چار ہو گئے کہ شوق پیرہن تمام تار تار ہو گئے یہاں جو دل میں داغ تھا وہی تو اک چراغ تھا وہ رات ایسا گل ہوا کہ شرمسار ہو گئے عزیز کیوں نہ جاں سے ہو شکست آئنہ ہمیں وہاں تو ایک عکس تھا ...

مزید پڑھیے

لوگ کہتے تھے وہ موسم ہی نہیں آنے کا

لوگ کہتے تھے وہ موسم ہی نہیں آنے کا اب کے دیکھا تو نیا رنگ ہے ویرانے کا بننے لگتی ہے جہاں شعر کی صورت کوئی خوف رہتا ہے وہیں بات بگڑ جانے کا ہم کو آوارگی کس دشت میں لائی ہے کہ اب کوئی امکاں ہی نہیں لوٹ کے گھر جانے کا دل کے پت جھڑ میں تو شامل نہیں زردی رخ کی رنگ اچھا نہیں اس باغ کے ...

مزید پڑھیے

چھوڑو اب اس چراغ کا چرچا بہت ہوا

چھوڑو اب اس چراغ کا چرچا بہت ہوا اپنا تو سب کے ہاتھوں خسارہ بہت ہوا کیا بے سبب کسی سے کہیں اوبتے ہیں لوگ باور کرو کہ ذکر تمہارا بہت ہوا بیٹھے رہے کہ تیز بہت تھی ہوائے شوق دشت ہوس کا گرچہ ارادہ بہت ہوا آخر کو اٹھ گئے تھے جو اک بات کہہ کے ہم سنتے ہیں پھر اسی کا اعادہ بہت ہوا ملنے ...

مزید پڑھیے

یہاں سے تو اب راستہ ہی نہیں

یہاں سے تو اب راستہ ہی نہیں تو کیا کوئی آگے گیا ہی نہیں ادھر کی ہی شاید خبر کچھ ملے ادھر کا تو کوئی پتہ ہی نہیں وہی شہر جس کا بہت شور تھا سنا ہے کچھ اب بولتا ہی نہیں کہاں تک یوں ہی خود کو دیتے صدا وہاں تو کوئی اور تھا ہی نہیں

مزید پڑھیے

یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے

یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے گہرائی میں کیوں نہ اتر کر دیکھا جائے تیز ہوائیں یاد دلانے آئی ہیں نام ترا پھر ریت پہ لکھ کر دیکھا جائے شور حریم ذات میں آخر اٹھا کیوں اندر دیکھا جائے کہ باہر دیکھا جائے گاتی موجیں شام ڈھلے سو جائیں گی بعد میں ساحل پہلے سمندر دیکھا جائے سارے ...

مزید پڑھیے

زخم کھانا ہی جب مقدر ہو

زخم کھانا ہی جب مقدر ہو پھر کوئی پھول ہو کہ پتھر ہو میں ہوں خواب گراں کے نرغے میں رات گزرے تو معرکہ سر ہو پھر غنیموں سے بے خبر ہے سپاہ پھر عقب سے نمود لشکر ہو کیا عجب ہے کہ خود ہی مارا جاؤں اور الزام بھی مرے سر ہو ہیں زمیں پر جو گرد باد سے ہم یہ بھی شاید فلک کا چکر ہو اس کو تعبیر ...

مزید پڑھیے

آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو

آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو کب تک میں چھپا رکھتا اس خواب خزانے کو دیکھا نہیں رخ کرتے جس طرف زمانے کو جی چاہتا ہے اکثر اس سمت ہی جانے کو یہ شغل زبانی بھی بے صرفہ نہیں آخر سو بات بناتا ہوں اک بات بنانے کو اس کنج طبیعت کی ممکن ہے ہوا بدلے جھونکا کوئی آ جائے پتے ہی اڑانے ...

مزید پڑھیے

ادھر سے آئے تو پھر لوٹ کر نہیں گئے ہم

ادھر سے آئے تو پھر لوٹ کر نہیں گئے ہم پکارتی رہی دنیا مگر نہیں گئے ہم اگرچہ خاک ہماری بہت ہوئی پامال برنگ نقش کف پا ابھر نہیں گئے ہم حصول کچھ نہ ہوا جز غبار حیرانی کہاں کہاں تری آواز پر نہیں گئے ہم منا رہے تھے وہاں لوگ جشن بے خوابی یہاں تھے خواب بہت سو ادھر نہیں گئے ہم چڑھا ہوا ...

مزید پڑھیے

میں بند آنکھوں سے کب تلک یہ غبار دیکھوں

میں بند آنکھوں سے کب تلک یہ غبار دیکھوں کوئی تو منظر سیاہ دریا کے پار دیکھوں کبھی وہ عالم کہ اس طرف آنکھ ہی نہ اٹھے کبھی یہ حالت کہ اس کو دیوانہ وار دیکھوں یہ کیسا خوں ہے کہ بہہ رہا ہے نہ جم رہا ہے یہ رنگ دیکھوں کہ دل جگر کا فشار دیکھوں یہ ساری بے منظری سواد سکوت سے ہے صدا وہ ...

مزید پڑھیے

میں کچھ بھی کہہ نہ پایا

تانگے کا ایک گھوڑا لنگڑا تھا تھوڑا تھوڑا پوچھا جو میں نے اس سے کیا پاؤں میں ہے پھوڑا بولا یہ ظلم مجھ پر اک آدمی نے توڑا پہلے تو اس نے مجھ کو تانگے میں لا کے جوڑا پھر اس کو خوب بھر کر بولا کہ چل منوڑا جب میں کھسک نہ پایا لہرایا اس نے کوڑا مارا مجھے تڑاتڑ پھر دم کو بھی مروڑا میں بلبلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5540 سے 6203