قومی زبان

سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیں

سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیں بس اک ستارۂ وحشت اثر کو دیکھتے ہیں کسی کے آنے کی جس سے خبر بھی آتی نہیں نہ جانے کب سے اسی رہ گزر کو دیکھتے ہیں خدا گواہ کہ آئینۂ نفس ہی میں ہم خود اپنی زندگیٔ مختصر کو دیکھتے ہیں تو کیا بس ایک ٹھکانا وہی ہے دنیا میں وہ در نہیں تو کسی اور در کو ...

مزید پڑھیے

یہ جو دھواں دھواں سا ہے دشت گماں کے آس پاس

یہ جو دھواں دھواں سا ہے دشت گماں کے آس پاس کیا کوئی آگ بجھ گئی سرحد جاں کے آس پاس شور ہوائے شام غم یوں تو کہاں کہاں نہیں سنیے تو بس سنائی دے درد نہاں کے آس پاس بجھ گئے کیا چراغ سب اے دل عافیت طلب کب سے بھٹک رہے ہیں ہم کوئے زیاں کے آس پاس ان کو تلاش کیجیے ہم تو ملیں گے آپ ہی اپنی ...

مزید پڑھیے

اس سے رشتہ ہے ابھی تک میرا

اس سے رشتہ ہے ابھی تک میرا وہ علاقہ ہے ابھی تک میرا کس توقع نے جگایا تھا مجھے خواب تازہ ہے ابھی تک میرا کیا بتاؤں میں لب دریا سے کچھ تقاضا ہے ابھی تک میرا کہیں یک دشت ہوا چمکتی تھی شہر اندھا ہے ابھی تک میرا اک ذرا خود کو سمیٹوں تو چلوں کام پھیلا ہے ابھی تک میرا وہی صحرا ہے وہی ...

مزید پڑھیے

اٹھئے کہ پھر یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا

اٹھئے کہ پھر یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا یہ کارواں ہے آخر کب تک رکا رہے گا زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوں اب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا بند قبا کا کھلنا مشکل بہت ہے لیکن لیکن کھلا تو پھر یہ عقدہ کھلا رہے گا سرگرمیٔ ہوا کو دیکھا ہے پاس دل کے اس آگ سے یہ جنگل کب تک بچا ...

مزید پڑھیے

اب اس مکاں میں نیا کوئی در نہیں کرنا

اب اس مکاں میں نیا کوئی در نہیں کرنا یہ کام سہل بہت ہے مگر نہیں کرنا ذرا ہی دیر میں کیا جانے کیا ہو رات کا رنگ سو اب قیام سر رہ گزر نہیں کرنا بیاں تو کر دوں حقیقت اس ایک رات کی سب پہ شرط یہ ہے کسی کو خبر نہیں کرنا رفوگری کو یہ موسم ہے سازگار بہت ہمیں جنوں کو ابھی جامہ در نہیں ...

مزید پڑھیے

اندھیرا سا کیا تھا ابلتا ہوا

اندھیرا سا کیا تھا ابلتا ہوا کہ پھر دن ڈھلے ہی تماشا ہوا یہیں گم ہوا تھا کئی بار میں یہ رستہ ہے سب میرا دیکھا ہوا نہ دیکھو تم اس ناز سے آئینہ کہ رہ جائے وہ منہ ہی تکتا ہوا نہ جانے پس کارواں کون تھا گیا دور تک میں بھی روتا ہوا کبھی اور کشتی نکالیں گے ہم ابھی اپنا دریا ہے ٹھہرا ...

مزید پڑھیے

پھینکتے سنگ صدا دریائے ویرانی میں ہم

پھینکتے سنگ صدا دریائے ویرانی میں ہم پھر ابھرتے دائرہ در دائرہ پانی میں ہم اک ذرا یوں ہی بسر کر لیں گراں جانی میں ہم پھر تمہیں شام و سحر رکھیں گے حیرانی میں ہم اک ہوا آخر اڑا ہی لے گئی گرد وجود سوچیے کیا خاک تھے اس کی نگہبانی میں ہم وہ تو کہئے دل کی کیفیت ہی آئینہ نہ تھی ورنہ ...

مزید پڑھیے

کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا

کسی کا عکس بدن تھا نہ وہ شرارہ تھا تو میں نے خیمۂ شب سے کسے پکارا تھا کہاں کسی کو تھی فرصت فضول باتوں کی تمام رات وہاں ذکر بس تمہارا تھا مکاں میں کیا کوئی وحشی ہوا در آئی تھی تمام پیرہن خواب پارہ پارہ تھا اسی کو بار دگر دیکھنا نہیں تھا مجھے میں لوٹ آیا کہ منظر وہی دوبارہ ...

مزید پڑھیے

اپنا سوچا ہوا اگر ہو جائے

اپنا سوچا ہوا اگر ہو جائے ایک عالم ہمارے سر ہو جائے شور دشت سکوت میں کم ہے اے ہوا تو ہی تیز تر ہو جائے نہ کریں گے وہ رخ ادھر اپنا چاہے دنیا ادھر ادھر ہو جائے درد آواز رفتہ رفتہ بنے آہ شب نالۂ سحر ہو جائے کتنی راہیں کھلی ہیں اپنے لیے دیکھیے کب کدھر سفر ہو جائے اس لیے ہوشیار ...

مزید پڑھیے

بدن سراب نہ دریائے جاں سے ملتا ہے

بدن سراب نہ دریائے جاں سے ملتا ہے تو پھر یہ خواب کنارہ کہاں سے ملتا ہے یہ دھوپ چھاؤں سلامت رہے کہ تیرا سراغ ہمیں تو سایۂ ابر رواں سے ملتا ہے ہم اہل درد جہاں بھی ہیں سلسلہ سب کا تمہارے شہر کے آشفتگاں سے ملتا ہے جہاں سے کچھ نہ ملے تو بھی فائدے ہیں بہت ہمیں یہ نقد اسی آستاں سے ملتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5539 سے 6203