رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدم
رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدم
ہاں مرے عزم جواں اور ذرا تیز قدم
اس اندھیرے سے نہ گھبرا کہ ذرا اور آگے
ہے چراغاں کا سماں اور ذرا تیز قدم
کہیں مایوس نہ ہونا جو نگاہوں سے ابھی
ان کی محفل ہے نہاں اور ذرا تیز قدم
یہ یقیں ہے کہ پہنچ جائیں گے ان تک اک دن
چلئے بے وہم و گماں اور ذرا تیز قدم
بجھ نہ جائیں رہ ہستی میں تمنا کے چراغ
خواجۂ راہرواں اور ذرا تیز قدم
کس بلندی پہ رواں تم ہو زمیں کے ذرو
ہیں ستارے نگراں اور ذرا تیز قدم
مل ہی جائے گا کہیں شہر نگاراں اخترؔ
اے پرستار بتاں اور ذرا تیز قدم