یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم
یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم اب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم کسی دہلیز پر آنکھوں کے یہ روشن دیئے رکھ کر ضمیر صبح کو جھنجھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم جدھر ہم جا رہے ہیں اس طرف ٹوٹا ہوا پل ہے یہ باگیں اس سے پہلے موڑ دینا چاہتے ہیں ہم یہ نوبت کل جو آنی ہے تو شرمندہ نہیں ...