قومی زبان

دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں

دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں وہ نگاہوں سے وار کرتے ہیں حال دل جب انہیں سناتا ہوں آنکھ وہ اشک بار کرتے ہیں ہم نے ان سے کبھی گلہ نہ کیا وہ تو شکوے ہزار کرتے ہیں آ بھی جاؤ کہ تاب ضبط نہیں ہر گھڑی انتظار کرتے ہیں آنکھ ان سے لڑی ہے جب اخترؔ گل و بلبل سا پیار کرتے ہیں

مزید پڑھیے

اجالوں کی نمائش ہو رہی ہے

اجالوں کی نمائش ہو رہی ہے اندھیروں سے بھی سازش ہو رہی ہے کوئی منصف نہیں شاید میسر ستم گر سے جو نالش ہو رہی ہے وہ مانے یا نہ مانے اس کی مرضی منانے کی تو کاوش ہو رہی ہے ستم گر سے کوئی پوچھے تو اتنا یہ مجھ پر کیوں نوازش ہو رہی ہے ادب کی روک کر تعمیر خود ہی ترقی کی گزارش ہو رہی ...

مزید پڑھیے

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک سمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تک منطق بھی تو اک چیز ہے اے قبلہ و کعبہ دے سکتی ہے کام آپ کی واللہ کہاں تک افلاک تو اس عہد میں ثابت ہوئے معدوم اب کیا کہوں جاتی ہے مری آہ کہاں تک کچھ صنعت و حرفت پہ بھی لازم ہے توجہ آخر یہ گورنمنٹ سے تنخواہ کہاں ...

مزید پڑھیے

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی گزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھی یہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم راز تو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی خطا ...

مزید پڑھیے

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا نہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دم بھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میں مگر عشق میں ہو گیا نام دل کا ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میں خدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیں یہی لے ...

مزید پڑھیے

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے barely have I sipped a bit, why should this uproar be It's not that I've commited theft or daylight robbery نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے the preachers prattle can be to inexerience ascribed how does he know the joys thereof, has he ever imbibed اس ...

مزید پڑھیے

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا جو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہل کھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احتراز پہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیں دین کی خاطر سے ...

مزید پڑھیے

گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن

گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن ادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کی عیاں ہے قدرت پروردگار عید کے دن سنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میری رہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن وہ سال بھر سے کدورت بھری جو تھی دل میں وہ دور ہو گئی بس ایک بار عید کے دن لگا لیا ...

مزید پڑھیے

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار ...

مزید پڑھیے

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی

ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی جوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی رنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہا صحن چمن میں زینت نقش و نگار ہو چکی مستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاں دور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئی تھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5434 سے 6203