ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثبات ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے دل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کو کیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب بدلیاں اٹھیں مگر ...