افسوس سفید ہو گئے بال ترے
افسوس سفید ہو گئے بال ترے لیکن ہیں سیاہ اب بھی اعمال ترے تو زلف بتاں بنا ہوا ہے اب تک دنیا پہ ہنوز پڑتے ہیں جال ترے
افسوس سفید ہو گئے بال ترے لیکن ہیں سیاہ اب بھی اعمال ترے تو زلف بتاں بنا ہوا ہے اب تک دنیا پہ ہنوز پڑتے ہیں جال ترے
جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیں جو بات ہے کام کی وہ چلنے کی نہیں یہ بھی ہے بہت کہ دل سنبھالے رہئے قومی حالت یہاں سنبھلنے کی نہیں
ہے حرص و ہوس کے فن کی مجھ کو تکمیل غیرت نہیں میری بزم دانش میں دخیل ہیں نفس کی خواہشیں بہت مجھ کو عزیز جب چاہیں کریں خوشی سے مجھ کو وہ ذلیل
غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا افعال مضر سے کچھ نہ کرنا اچھا اکبرؔ نے سنا ہے اہل غیر سے یہی جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا
مسکین گدا ہو یا ہو شاہ ذی جاہ بیماری و موت سے کہاں کس کو پناہ آ ہی جاتا ہے زندگی میں اک وقت کرنا پڑتا ہے سب کو اللہ اللہ
بہتر ہے یہی کہ اب علی گڑھ چلئے رکئے نہ کسی کے واسطے بڑھ چلئے جس فن کا ہو درس ہو جائیے اس میں شریک جو پیش ہے سبق اسے پڑھ چلئے
علم و حکمت میں ہو اگر خواہش فیم سرکار کی نوکری کو ہرگز نہ کر ایم شادی نہ کر اپنی قبل تحصیل علوم بت ہو کہ پری ہو خواہ وہ ہو کوئی میم
اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیں جو ایک کرے ادھر طبیعت ہی نہیں اکبر کہتا ہے میل رکھو باہم وہ کہتے ہیں میل کی ضرورت ہی نہیں
اکبرالہ آبادی دلی میں خواجہ حسن نظامی کے ہاں مہمان تھے ۔ سب لوگ کھانا کھانے لگے تو آلو کی ترکاری اکبر کو بہت پسند آئی ۔ انہوں نے خواجہ صاحب کی دختر حور بانو سے (جو کھانا کھلارہی تھی ) پوچھا کہ بڑے اچھے آلو ہیں ۔ کہاں سے آئے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے خالو بازار سے لائے ہیں ۔ اس پر ...
اکبر الہ آبادی ایک بار خواجہ حسن نظامی کے ہاں مہمان تھے ۔ دو طوائفیں حضرت نظامی سے تعویذ لینے آئیں ۔ خواجہ صاحب گاؤ تکیہ سے لگے بیٹھے تھے ۔ اچانک ان کے دونوں ہاتھ اوپر کو اٹھے اور اس طرح پھیل گئے جیسے بچے کو گود میں لینے کے لیے پھیلتے ہیں اور بے ساختہ زبان سے نکلا’’ آئیے آئیے ...