تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے
تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے کنار چشم کئی خواب سر اٹھانے لگے پلک جھپکنے میں گزرے کسی فلک سے ہم کسی گلی سے گزرتے ہوئے زمانے لگے مرا خیال تھا یہ سلسلہ دیوں تک ہے مگر یہ لوگ مرے خواب بھی بجھانے لگے نجانے رات ترے مے کشوں کو کیا سوجھی سبو اٹھاتے اٹھاتے فلک اٹھانے لگے وہ گھر ...