قومی زبان

تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے

تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے کنار چشم کئی خواب سر اٹھانے لگے پلک جھپکنے میں گزرے کسی فلک سے ہم کسی گلی سے گزرتے ہوئے زمانے لگے مرا خیال تھا یہ سلسلہ دیوں تک ہے مگر یہ لوگ مرے خواب بھی بجھانے لگے نجانے رات ترے مے کشوں کو کیا سوجھی سبو اٹھاتے اٹھاتے فلک اٹھانے لگے وہ گھر ...

مزید پڑھیے

بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے

بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے وہاں نہیں ہیں جہاں پر مکان ہوتے تھے سنا گیا ہے یہاں شہر بس رہا تھا کوئی کہا گیا ہے یہاں پر مکان ہوتے تھے وہ جس جگہ سے ابھی اٹھ رہا ہے گرد و غبار کبھی ہمارے وہاں پر مکان ہوتے تھے ہر ایک سمت نظر آ رہے ہیں ڈھیر پہ ڈھیر ہر ایک سمت مکاں پر مکان ہوتے ...

مزید پڑھیے

وہ حسن سبز جو اترا نہیں ہے ڈالی پر

وہ حسن سبز جو اترا نہیں ہے ڈالی پر فریفتہ ہے کسی پھول چننے والی پر میں ہل چلاتے ہوئے جس کو سوچا کرتا تھا اسی کی گندمی رنگت ہے بالی بالی پر یہ لوگ سیر کو نکلے ہیں سو بہت خوش ہیں میں دل گرفتہ ہوں سبزے کی پائمالی پر اک اور رنگ ملا آ کے سات رنگوں میں شعاع مہر پڑی جب سے تیری بالی ...

مزید پڑھیے

ایک کہانی

پہاڑوں سے گھری وادی میں، پتھر سے بنی اک چار دیواری اور اس دیوار کے اندر کئی کمرے ہزاروں سال کی ویرانیاں اوڑھے کھڑے ہیں انہی ویران کمروں میں سے اک کمرا جہاں تین آدمی اک چارپائی پر خود اپنے آپ سے باہر نکل کر اس طرح بیٹھے ہوئے ہیں جیسے اپنے آپ میں تھے ہی نہیں وہ تین ہیں بس تین اور ...

مزید پڑھیے

دل شوریدہ کی وحشت نہیں دیکھی جاتی

دل شوریدہ کی وحشت نہیں دیکھی جاتی روز اک سر پہ قیامت نہیں دیکھی جاتی اب ان آنکھوں میں وہ اگلی سی ندامت بھی نہیں اب دل زار کی حالت نہیں دیکھی جاتی بند کر دے کوئی ماضی کا دریچہ مجھ پر اب اس آئینے میں صورت نہیں دیکھی جاتی آپ کی رنجش بے جا ہی بہت ہے مجھ کو دل پہ ہر تازہ مصیبت نہیں ...

مزید پڑھیے

زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے

زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے یاد آتے ہیں بہت دل کو دکھانے والے راستے چپ ہیں نسیم سحری بھی چپ ہے جانے کس سمت گئے ٹھوکریں کھانے والے اجنبی بن کے نہ مل عمر گریزاں ہم سے تھے کبھی ہم بھی ترے ناز اٹھانے والے آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے ...

مزید پڑھیے

عمر گریزاں کے نام

عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میں اس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کا داستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے خواب ادھورے ہیں جو دہراتا ہوں ان خوابوں کو زخم پنہاں ہیں جو وہ زخم دکھاتا ہوں اسے اس سے کہتا ہوں تمنا کے لب و لہجے میں اے مری جان مری ...

مزید پڑھیے

فیصلہ

آج سوچا ہے کہ احساس کو زائل کر دوں اپنے شوریدہ ارادے کو اپاہج کر لوں اپنی مجروح تمنا کا مداوا نہ کروں اپنی خوابیدہ محبت کا المناک مآل اپنی بے خواب جوانی کو سنایا نہ کروں اپنے بے کیف تصور کے سہارے کے لیے ایک بھی شمع سر راہ جلایا نہ کروں اپنے بے سود تخیل کو بھٹک جانے دوں زندگی جیسے ...

مزید پڑھیے

یادیں

لو وہ چاہ شب سے نکلا پچھلے پہر پیلا مہتاب ذہن نے کھولی رکتے رکتے ماضی کی پارینہ کتاب یادوں کے بے معنی دفتر خوابوں کے افسردہ شہاب سب کے سب خاموش زباں سے کہتے ہیں اے خانہ خراب گزری بات صدی یا پل ہو گزری بات ہے نقش بر آب یہ روداد ہے اپنے سفر کی اس آباد خرابے میں دیکھو ہم نے کیسے بسر کی ...

مزید پڑھیے

زندگی کا وقفہ

رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹی پتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسے دیکھنا چاہتی ہیں شہر میں کیا ہوتا ہے میں ہمیشہ کی طرح ہونٹوں میں سگریٹ کو دبائے سونے سے پہلے خیالات میں کھویا ہوا ہوں دن میں کیا کچھ کیا اک جائزہ لیتا ہے ضمیر ایک سادہ سا ورق نامۂ اعمال ہے سب کچھ نہیں لکھا بجز اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5414 سے 6203