قومی زبان

اپنے پہلے مکان تک ہو آؤں

اپنے پہلے مکان تک ہو آؤں میں ذرا آسمان تک ہو آؤں کوئی پیکر پکارتا ہے مجھے سامنے کی چٹان تک ہو آؤں جھڑتا جاتا ہے جسم روز بہ روز کوزہ گر کی دکان تک ہو آؤں سحر تشکیک! اب رہائی دے میں کوئی دم گمان تک ہو آؤں وقت اب دسترس میں ہے اخترؔ اب تو میں جس جہان تک ہو آؤں

مزید پڑھیے

ابھی تو پر بھی نہیں تولتا اڑان کو میں

ابھی تو پر بھی نہیں تولتا اڑان کو میں بلا جواز کھٹکتا ہوں آسمان کو میں مفاہمت نہ سکھا دشمنوں سے اے سالار تری طرف نہ کہیں موڑ دوں کمان کو میں مری طلب کی کوئی چیز شش جہت میں نہیں ہزار چھان چکا ہوں تری دکان کو میں نہیں قبول مجھے کوئی بھی نئی ہجرت کٹاؤں کیوں کسی بلوے میں خاندان کو ...

مزید پڑھیے

موت

زندگی کو اک جوے کی طرح کھیلا عمر بھر اور کوئی بازی کسی منزل پہ بھی ہارا نہیں داؤں جتنے بھی لگائے سب میں کچھ پاتا گیا کیا ہوا کرتا ہے کھونا یہ کبھی جانا نہیں مل گیا آخر میں لیکن ایک ایسا بھی حریف حیف جس سے ہار بیٹھا میں خود اپنا ہی وجود چال کچھ ایسی چلی اس نے کہ سب کچھ لٹ گیا ہو گیا ...

مزید پڑھیے

اندھا

میرے احساسات کی گہرائیوں میں ہے نہاں بے توجہ قبر کی مانند اک اندھا کنواں اس کی تہ میں کوئی قطرہ آب شیریں کا نہیں فیض اس سے روح تشنہ کو کبھی پہنچا نہیں گاہے گاہے گونجتی ہے اس میں اپنی ہی صدا جس سے خود مجھ پر ہوا کرتا ہے طاری خوف سا حوصلوں کو نیم جاں کرتی ہے ہے جس بازگشت دور تر ہوتا ...

مزید پڑھیے

من کا اندھیرا

انسان کو بھگوان نظر آئے گا کیوں کر روشن کے لیے نینوں میں شکتی ہی نہیں ہے بھکتوں کی نگاہوں سے وہ چھپتا نہیں لیکن افسوس کہ سنسار میں بھکتی ہی نہیں ہے ہونٹوں پہ ہیں نروان کی اور گیان کی باتیں سینے کی گپھاؤں میں ہے پاپوں کا بسیرا پوجا کے لیے سب نے جلا رکھے ہیں دیپک مندر میں اجالا ہے ...

مزید پڑھیے

حاصل مطالعہ

وہ جنہیں مجھ سے محبت بھی ہے ہمدردی بھی ہے میرے علمی شوق کو کہتے ہیں بیکار و فضول پوچھتے ہیں وہ مجھے کیوں ان کتابوں سے ہے عشق ہو نہ مالی منفعت کا جن کے پڑھنے سے حصول جانتا ہوں میں بھی مالی فائدہ ان سے نہیں پھر بھی کرتا ہوں دل و جاں سے کتابوں کو پسند سرفرازی دے نہیں سکتی وہ دولت سے ...

مزید پڑھیے

پانی

پانی سے ہویدا ہوتی ہے دنیا میں خدا کی رحمت بھی پانی میں دکھائی دیتی ہے تصویر عذاب و لعنت بھی پانی کی بدولت ملتی ہے انساں کو غذا کی نعمت بھی سیلاب کی صورت میں پانی لاتا ہے جہاں پر آفت بھی اک جھیل کے گہرے پانی پر اس وقت جمی ہے میری نظر افکار ہیں ڈانوا ڈول مرے جذبات ہیں میرے زیر و ...

مزید پڑھیے

کلیوں کا شباب

جس کلی سے صحن گلشن تھا سجا اس کا رس آوارہ بھنورا پی گیا جو کلی تھی زینت بزم نشاط ہو گئی وہ نذر اہل انبساط ہے بہ ہر صورت ہوس کا گر عذاب کیوں بھلا کلیوں پہ آتا ہے شباب

مزید پڑھیے

مشاہدہ

دیوار میں روزن تو ہوا کرتے ہیں لیکن دل میں نہیں ہوتا کوئی اس دور میں روزن پڑتی ہے نظر سب کی تماشوں پہ جہاں کے رہتا ہے نگاہوں سے چھپا سینے کا درپن دیتی ہے ہر اک چیز زمانے کی دکھائی ہوتا نہیں خود اپنا ہی دیدار میسر باہر کے مناظر میں ہیں الجھی ہوئی نظریں آنکھوں سے ہیں اوجھل وہ نظارے ...

مزید پڑھیے

یادوں کا زہر

بیتے ہوئے دنوں کی ہیں یادیں بھی اک عذاب رہتا ہے ذہن و قلب پہ ان کا سدا عتاب ادراک و فہم کو بھی یہ ڈستی ہیں دم بدم جذبات کے لیے بھی نہیں ناگنوں سے کم چاہا تھا شاعری تو نہ مسموم ہو مگر یادوں کا زہر اس پہ بھی اب کر گیا اثر

مزید پڑھیے
صفحہ 5389 سے 6203