قومی زبان

تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا

تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا چراغ خود کلامی کا دھواں بازار تک آیا ہوا کاغذ مصور ایک پیغام زبانی سے سخن تصویر تک پہنچا ہنر پرکار تک آیا عبث تاریک رستے کو تہ خورشید جاں رکھا یہی تار نفس آزار سے پیکار تک آیا محبت کا بھنور اپنا شکایت کی جہت اپنی وہ محور دوسرا تھا جو مرے ...

مزید پڑھیے

ایک پردہ ہٹا ایک چہرہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی

ایک پردہ ہٹا ایک چہرہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی چاند چلتا ہوا مہر سے جا ملا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی دل سے نکلا لبوں تک سوال آ گیا اپنے رہنے سے چل کر غزال آ گیا بند رخت صبا باب نافہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی اپنے اپنے سفر پر پھریرے چلے رات کے لشکری منہ اندھیرے ...

مزید پڑھیے

سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے

سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے رکھ دیا ہم نے حساب ماہ و سال اس کے لیے اس کی خوشبو کے تعاقب میں نکلا آیا چمن جھک گئی سوئے زمیں لمحے کی ڈال اس کے لیے سرو تا خاک گیہ اپنی وفا کا سلسلہ سر کشیدہ اس کی خاطر پائمال اس کے لیے کیا مکاں خوردہ خلائق میں چلے اس کا خیال تنگ ہائے شہر ...

مزید پڑھیے

اسکول

اجلی دھوپ ہے فرش گیہ پر اجلی دھوپ میں فرش گیہ پر روشن اور درخشاں لمحوں کی شبنم ہے سبز درختوں میں خنداں چہروں کی چاندی ہے سونا ہے ان لمحوں سے ان پھولوں سے سبز درختوں کے پتوں سے جز دانوں کی جیبیں بھر لو کل جب سورج زیست کی چھت پر برف کی صورت جم جائے گا کل جب راتیں راکھ کی صورت بجھ ...

مزید پڑھیے

مقتل کی بازدید

بلا کی پیاس اس کی آنکھ میں ہے حجاز کی سرزمیں پہ اس سال اس قدر بارشیں ہوئی ہیں کہ خشک تالاب خون ناحق سے بھر گئے ہیں لہو کی پیاس اس کی آنکھ میں ہے نفس میں بارود جس کی قاتل صدا کا شعلہ قدم قدم تہنیت کے رستے رواں ہوا تو وہ نخل جس کی جڑیں زمینوں کے درد میں تھیں جھکا کچھ ایسے کہ جیسے حال ...

مزید پڑھیے

تیرا پار اترنا کیسا

بہتے دن کا گدلا پانی کچھ آنکھوں میں کچھ کانوں میں اور شکم میں نا آسودہ درد کی کائی اس دریا میں لمحہ لمحہ ڈوبنے والے تیرا جینا مرنا کیسا؟ تیرا پار اترنا کیسا؟ کون سفینہ سوچتی عمروں کے ساحل سے تودہ تودہ گرتی شاموں کے پایاب سے تیری جانب آئے گا ڈوبنے والے! تیرا پار اترنا کیسا؟

مزید پڑھیے

نومبر کے پہلے ہفتے پر ایک نظم

خنک ہوا کا برہنہ ہاتھوں سے زرد ماتھے سے پہلا پہلا مکالمہ ہے ابھی یہ دن رات سرد مہری کے اتنے خوگر نہیں ہوئے ہیں تو پھر یہ بے وزن صبح کیوں بوجھ بن رہی ہے سواد آغاز‌‌ خشک سالی میں کیوں ورق بھیگنے لگا ہے دھواں دھواں شام کے الاؤ میں کوئی جنگل جلے کہ روٹھی ہوئی تمنا خزاں کا پانی کوئی ...

مزید پڑھیے

وصال

عجیب وہ سیل تھا کہ جس نے کنار دریا کی سرحدوں میں نئے اضافے کیے ہیں تازہ زمین آباد کر گیا ہے عجیب وہ دھوپ تھی جو پیش از سحر کی ساعت کے گھر میں اتری تو جیسے سوئے ہوئے لبوں پر نشان الفت لگا گئی ہے عجیب لمحہ تھا جس نے سر پر چمکتے سورج کے گرم رستے پہ پا برہنہ سفر کیا ہے وہ دھوپ تیرے جمال ...

مزید پڑھیے

نظم

شام ڈھلے تو میلوں پھیلی خوشبو خوشبو گھاس میں رستے آپ بھٹکنے لگتے ہیں زلف کھلے تو مانگ کا صندل شوق طلب میں آپ سلگنے لگتا ہے شام ڈھلے تو زلف کھلے تو لفظوں ان رستوں پر جگنو بن کر اڑنا راہ دکھانا دن نکلے تو تازہ دھوپ کی چمکیلی پوشاک پہن کر میرے ساتھ گلی کوچوں میں لفظو منزل منزل ...

مزید پڑھیے

ترک وعدہ کہ ترک خواب تھا وہ

ترک وعدہ کہ ترک خواب تھا وہ کام سب ہو چکا جو کرنا تھا بھر چکا جام شرط وصل جسے صبح تک، آنسوؤں سے بھرنا تھا وہ سخن اس کے مدعا میں نہیں مجھ کو جس بات سے مکرنا تھا کوئی تقسیم کار مہر و نجوم یا حساب شب نزول کوئی دشت لاحاصلی کی محدودات شہر محرم کا عرض و طول کوئی کچھ نہیں درمیاں جزا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5385 سے 6203