ایذرا پاؤنڈ کی موت پر
تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں تو جدا ایسے موسموں میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں انتظار بہار بھی کرتے دامن چاک سے اگر اپنے کوئی پیمان پھول کا ہوتا آ تجھے تیرے سبز لفظوں میں دفن کر دیں کہ تیرے فن جیسی دہر میں کوئی نو بہار نہیں
تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں تو جدا ایسے موسموں میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں انتظار بہار بھی کرتے دامن چاک سے اگر اپنے کوئی پیمان پھول کا ہوتا آ تجھے تیرے سبز لفظوں میں دفن کر دیں کہ تیرے فن جیسی دہر میں کوئی نو بہار نہیں
چاند کے سائے میں لو دیتا بدن ٹمٹماتے ہونٹ میٹھی روشنی گھولنا پیالوں میں امرت گھولنا کھولنا الزام سارے کھولنا جو بدن ملتے سمے کھلتے نہیں شمع جلنے دوستی پر سچ اترنے کی گھڑی آنے کو ہے دل میں جتنا کھوٹ تھا سب پڑھ لیا اس آنکھ نے آنکھ نے اپنی قسم توڑی نہیں دستخط میرے بھی ہوتے اختتام ...
خنک موسم نہیں گزرا سفر سورج کرے تو ابر اس کے ساتھ چلتا ہے ابھی ندی کے پانی پر ہوا کے تازیانے سے نشاں پیدا نہیں ہوتا تبر کی ضرب کاری سے، شاخوں سے زمیں پر پتا پتا حرف گرتے ہیں کوئی فقرہ شجر کے زخم مہمل کی پذیرائی نہیں کرتا لہو معنی نہیں دیتا تو پھر قرطاس احمر ہو کہ ابیض رنگ پیراہن ...
اک حرف فسردہ داغ میں ہے اک بات بجھے چراغ میں ہے اک نام لہو کی گردشوں میں طوفان میں ڈولتا سفینہ ڈوبے نہ بھنور کے پار اترے اک شام کہ جس کے بام و در کو ہاری ہوئی صبح سے شکایت روٹھے ہوئے چاند کی تمنا اک راہ نورد جو یہ چاہے پاؤں نہ حد وفا سے نکلے سر سے نہ سفر کا بار اترے
زمیں کی یہ قوس جس پہ تو مضطرب کھڑی ہے یہ راستہ جس پہ میں ترے انتظار میں ہوں زمیں کی اس قوس پر افق پر قطار اندر قطار لمحات کے پرندے ہمارے حصے کے سبز پتے سنہری منقار میں لیے جاگتی خلاؤں میں اڑ رہے ہیں زمیں کی اس قوس پر افق پر ہے نا بسر کردہ زندگی کی وہ فصل جس کا ہمیں ہر ایک پیڑ کاٹنا ...
سوال بچے نے جو کیے تھے جواب ان کا دبی زباں سے وہی دیا ہے جو مجھ کو اجداد سے ملا تھا وہی پرانے سوال اس کے زمیں اگر خام ہے تو اس پر ہمارے پختہ مکان کیوں ہیں؟ اگر گلابوں کو رنگ خورشید سے ملا ہے تو دھوپ کا حسن کون سے پھول کی عطا ہے؟ وہی پرانے سوال اس کے وہی پرانا جواب میرا وہی گرہ وارد ...
چڑھے ہوئے ہیں جو دریا اتر بھی جائیں گے مرے بغیر ترے دن گزر بھی جائیں گے اڑا رہی ہیں ہوائیں پرائے صحنوں میں ڈھلے گی رات تو ہم اپنے گھر بھی جائیں گے جو رو رہی ہے یہی آنکھ ہنس رہی ہوگی ترے دیار میں بار دگر بھی جائیں گے تلاش خود کو کہیں خاک و آب میں کر لیں تمہارے کھوج میں پھر در بدر ...
منزل خواب ہے اور محو سفر پانی ہے آنکھ کیا کھولیں کہ تا حد نظر پانی ہے آئنہ ہے تو کوئی عکس کہاں ہے اس میں کیوں بہا کر نہیں لے جاتا اگر پانی ہے ایک خواہش کہ جو صحرائے بدن سے نکلی کھینچتی ہے اسی جانب کو جدھر پانی ہے پاؤں اٹھتے ہیں کسی موج کی جانب لیکن روک لیتا ہے کنارہ کہ ٹھہر ...
نکل رہا ہوں یقیں کی حد سے گماں کی جانب سفر ہے میرا زمین سے آسماں کی جانب منڈیر پر کوئی چشم تر تھی کہ آئنہ تھا ستارۂ شام دیکھتا تھا مکاں کی جانب یہ خواب ہے یا طلسم کوئی کہ خشک پتے کھنچے چلے جا رہے ہیں آب رواں کی جانب کوئی تو اوپر سے بوجھ ڈالا گیا ہے ورنہ جھکا ہوا آسماں ہے کیوں ...
زخم دیکھے نہ مرے زخم کی شدت دیکھے دیکھنے والا مری آنکھوں کی حیرت دیکھے مجھ پہ آساں ہے کہے لفظ کا ایفا کرنا اس کو مشکل ہے تو وہ اپنی سہولت دیکھے دل لئے جاتا ہے پھر کوئے ملامت کی طرف آنکھ کو چاہئے پھر خواب ہزیمت دیکھے کوئی صورت ہو کہ انکار سے پہلے آ کر کس قدر اس کی یہاں پر ہے ...