قومی زبان

رونق ہی نہیں اس کی ہم روح و رواں بھی ہیں

رونق ہی نہیں اس کی ہم روح و رواں بھی ہیں لیکن ہمیں دنیا کی خاطر پہ گراں بھی ہیں اک تیرے ہی کوچے پر موقوف نہیں ہے کچھ ہر گام ہیں تعزیریں ہم لوگ جہاں بھی ہیں گلچیں کو نہیں شاید اس راز سے آگاہی شبنم میں نہائے گل شعلوں کی زباں بھی ہیں کھاتے تھے قسم جن کے کردار و عمل کی ہم شامل صف ...

مزید پڑھیے

شش جہت

لمحۂ نو عظیم ہے سوزش دل ہے کیا بلا جذب و جنوں بھی کچھ نہیں سانجھ سماج ہیچ ہیں رشتہ خوں بھی کچھ نہیں حسرت و آرزو کی نے بندش و بستگی کی لے دمدمۂ قدیم ہے عہد کہن گزر گیا لمحۂ نو عظیم ہے آج کا سحر بے بدل آج کی لو عظیم ہے عطر کی روح میں بسی عصر کے روپ میں رچی پھوٹتی پو عظیم ہے یہ تگ و ...

مزید پڑھیے

گرد باد

بگولا خاک زادہ فرش افتادہ ہوا جاروب کرتی ہے تو اس کا جسم ڈھلتا ہے سفر کی گردشیں سودائے باطن منتشر سوچیں ہیولے سا بگولا بے شباہت قیس زادہ شہر کی گلیوں میں چکراتا ہے خود میں چیختا پل میں کئی قرنوں کے بل کھاتا ہے گرد زرد کا جھولا بگولا ہجر زادہ بلکہ ہجرت زاد صحرا سے ابھی بستی میں ...

مزید پڑھیے

شام

تو آ گئی شام سرمئی وحشت و ہزیمت کے سائے سائے میں درد ہا درد اک نئی نظم بن رہا ہوں درخت آسیب زادگاں دیو پیکراں چہچہے کراہیں یہ پات نوحے پہ سینہ کوبی میں گم عزا دار شاخچے برچھیوں کے پھل غنچے زخم نا آشنائے مرہم گھنے درختوں میں زمزمہ ساز اپنی اپنی دھنوں کو ترتیب دے رہے ہیں لہکتے ...

مزید پڑھیے

نئے سر کی تمثیل

کامنی خواب کی لو میں ہنستی ہوئی کامنی سولہ برس کی تقویم میں فصل گل کا کوئی تذکرہ تک نہ تھا میں نے بتیس بتیس جھڑ رتیں کاٹ دیں اب جو تمثیل کے ایک وقفے میں تم سے ملا ہوں تو سانسوں میں نم چال میں ان زمانوں کا رم جی اٹھا ہے جو عہد زمستاں میں یخ تھے سقر سا سقر کامنی خندۂ گل کی کل زندگی ایک ...

مزید پڑھیے

میں کیا کہتا تھا

میں یہ کہتا تھا کہ نوحہ نہ کہو کھیلتی تتلیوں ہنستی ہوئی کلیوں کے قصیدے لکھو یہ جو امکاں میں کوئی باس دمکتی ہے اسے لفظ میں لاؤ کسی دل میں لکھے لفظ جو دل کے دباؤ کو گھٹا دیتا ہے دل جو اک حشر اٹھا دیتا ہے میں یہ کہتا تھا چہکتی ہوئی چڑیوں کے لیے گیت لکھو ان درختوں سے لپٹ جاؤں جو جلتے ...

مزید پڑھیے

میں عجب آدمی ہوں

میں عجب آدمی ہوں رائیگانی کے تسلسل نے مجھے توڑ دیا میری پونجی مرے قرطاس و قلم کچھ کتابیں پئے تسکین جنوں کون طالب ہے بھلا مایۂ بے مایہ کا کوئی جاگیر نہیں زندگی شعر کے میلے میں گنوا دی میں نے اس پہ نازاں تھا کہ ہر لفظ مرے حلقۂ احساس میں ہے اس پہ فاخر تھا کہ ہیں خواب مرے کیسے ...

مزید پڑھیے

بت ساز

میں نے کیا سوچ کے صحرا میں دکاں کھولی ہے لب لعلیں کے تصور میں منگائے یاقوت نجم لایا ہوں کہ ترتیب ہو سلک دنداں مہ یک رو بھی تو درکار ہے ابرو کے لئے دور افق پار سے تھوڑی سی شفق لایا ہوں خون میں گوندھ کے بھٹی میں تپاؤں گا اسے تب کہیں سرخیٔ رخسار ہویدا ہوگی میں نے تیار کیا خاک کواکب سے ...

مزید پڑھیے

زر ناب

اک خواب کے فاصلے پہ لہو ہے کہسار کے سرمئی کنارے وادی سے شفق اچھالتے ہیں جی میں یہ بھرا ہوا سنہرا بھیتر میں رکا ہوا دسہرہ کاغذ پہ نمو کرے گا کب تک اے حرف ستارہ ساز اب تو اٹھتی ہے قنات روشنی کی ظلمت کا شعار ہے اکہرا خفتہ ہے جہت جہت اجالا امکاں ہے بسیط اور گہرا

مزید پڑھیے

ہجر اک حسن ہے اس حسن میں رہنا اچھا

ہجر اک حسن ہے اس حسن میں رہنا اچھا چشم بے خواب کو خوں ناب کا گہنا اچھا کوئی تشبیہ کا خورشید نہ تلمیح کا چاند سر قرطاس لگا حرف برہنہ اچھا پار اترنے میں بھی اک صورت غرقابی ہے کشتئ خواب رہ موج پہ بہنا اچھا یوں نشیمن نہیں ہر روز اٹھائے جاتے اسی گلشن میں اسی ڈال پہ رہنا اچھا بے دلی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5384 سے 6203