قومی زبان

اداس کہسار کے نوحے

پورا جسم اور جلتا سورج پورے جسم اور جلتے سورج کے اطراف میں شوریدہ سر وحشی پانی دریاؤں کو پورے جسم اور وحشی پانی اچھے لگتے ہیں دونوں پر پھیلا کر اڑنا سارے رنگ سجا کر اڑنا تتلی کو ہموار ہوائیں اچھی لگتی ہیں ٹھنڈی ریت پہ جسم سنہرا سانس سے سانس کا رشتہ گہرا تم ماتھے سے ماتھا ...

مزید پڑھیے

جہاں دریا اترتا ہے

۱ سرشک خوں رخ مضمون پہ چلتا ہے تو اک رستہ نکلتا ہے ندی دریا پہ تھم جائے لہو نقطے پہ جم جائے تو عنوان سفر ٹھہرے اسی رستے پہ سرکش روشنی تاروں میں ڈھلتی ہے اسی نقطے کی سولی پر پیمبر بات کرتے ہیں مجھے چلنا نہیں آتا شب ساکن کی خانہ زاد تصویرو گواہی دو فصیل صبح ممکن پر مجھے چلنا نہیں ...

مزید پڑھیے

دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے

دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے اور پھر لہر نہ دیکھے کف دریا دیکھے میں ہر اک حال میں تھا گردش دوراں کا امیں جس نے دنیا نہیں دیکھی مرا چہرہ دیکھے اب بھی آتی ہے تری یاد پہ اس کرب کے ساتھ ٹوٹتی نیند میں جیسے کوئی سپنا دیکھے رنگ کی آنچ میں جلتا ہوا خوشبو کا بدن آنکھ اس پھول کی ...

مزید پڑھیے

وہ خود تو مر ہی گیا تھا مجھے بھی مار گیا

وہ خود تو مر ہی گیا تھا مجھے بھی مار گیا وہ اپنے روگ مری روح میں اتار گیا سمندروں کی یہ شورش اسی کا ماتم ہے جو خود تو ڈوب گیا موج کو ابھار گیا ہوا کے زخم کھلے تھے اداس چہرے پر خزاں کے شہر سے کوٹی تو پر بہار گیا اندھیری رات کی پرچھائیوں میں ڈوب گیا سحر کی کھوج میں جو بھی افق کے پار ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈتے ہو جسے دفینوں میں

ڈھونڈتے ہو جسے دفینوں میں وہی وحشی ہے سب کے سینوں میں میرے قابیل کی روایت ہیں پرزے جتنے بھی ہیں مشینوں میں صبح دم پھر سے بانٹ دی کس نے تیرگی شہر کے مکینوں میں بھوک بوئی گئی ہے اب کے برس دانت اگ آئے ہیں زمینوں میں زندگی گاؤں کی حسیں لڑکی گھر گئی ہے تماش بینوں میں کس مسافر کی ...

مزید پڑھیے

جو سنگ ہو کے ملائم ہے سادگی کی طرح

جو سنگ ہو کے ملائم ہے سادگی کی طرح پگھل رہا ہے مرے دل میں چاندنی کی طرح مجھے پکارو تو دیوار ہوں سنو تو صدا میں گونجتا ہوں فضاؤں میں خامشی کی طرح میں اس کو نور کا پیکر کہوں کہ جان خیال جو میرے دل پہ اترتا ہے شاعری کی طرح کسی کی یاد نے مہکا دیا ہے زخم طلب صبا کے ہاتھ سے مسلی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اپنا دکھ اپنا ہے پیارے غیر کو کیوں الجھاؤ گے

اپنا دکھ اپنا ہے پیارے غیر کو کیوں الجھاؤ گے اپنے دکھ میں پاگل ہو کر اب کس کو سمجھاؤ گے درد کے صحرا میں لاکھوں امید کے لاشے گلتے ہیں ایک ذرا سے دامن میں تم کس کس کو کفناؤ گے توڑ بھی دو احساس کے رشتے چھوڑ بھی دو دکھ اپنانے رو رو کے جیون کاٹو گے رو رو کے مر جاؤ گے راز کی بات کو ...

مزید پڑھیے

چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو

چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو اپنے سینے پر سنبھالا میں نے بوجھل رات کو رات بھر چھایا رہا گھر کی فضا پر اک ہراس دستکیں دیتا تھا در پر کوئی پاگل رات کو چاندنی میں گھل گیا جب دل کی مایوسی کا زہر میں نے خود کفنا دیا سایوں میں کومل رات کو کرب کے لاوے ابلتے تھے سکوں کے آس ...

مزید پڑھیے

اشک جب دیدۂ تر سے نکلا

اشک جب دیدۂ تر سے نکلا ایک کانٹا سا جگر سے نکلا پھر نہ میں رات گئے تک لوٹا ڈوبتی شام جو گھر سے نکلا ایک میت کی طرح لگتا تھا چاند جب قید سحر سے نکلا مجھ کو منزل بھی نہ پہچان سکی میں کہ جب گرد سفر سے نکلا ہائے دنیا نے اسے اشک کہا خون جو زخم نظر سے نکلا اک اماوس کا نصیبہ ہوں میں آج ...

مزید پڑھیے

دنیا بھی پیش آئی بہت بے رخی کے ساتھ

دنیا بھی پیش آئی بہت بے رخی کے ساتھ ہم نے بھی زخم کھائے بڑی سادگی کے ساتھ اک مشت خاک آگ کا دریا لہو کی لہر کیا کیا روایتیں ہیں یہاں آدمی کے ساتھ اپنوں کی چاہتوں نے بھی کیا کیا دیئے فریب روتے رہے لپٹ کے ہر اک اجنبی کے ساتھ جنگل کی دھوپ چھاؤں ہی جنگل کا حسن ہے سایوں کو بھی قبول کرو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5382 سے 6203