قومی زبان

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے

وہ کبھی مل جائیں تو کیا کیجئے رات دن صورت کو دیکھا کیجئے چاندنی راتوں میں اک اک پھول کو بے خودی کہتی ہے سجدہ کیجئے جو تمنا بر نہ آئے عمر بھر عمر بھر اس کی تمنا کیجئے عشق کی رنگینیوں میں ڈوب کر چاندنی راتوں میں رویا کیجئے پوچھ بیٹھے ہیں ہمارا حال وہ بے خودی تو ہی بتا کیا ...

مزید پڑھیے

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں مجھ کو یہ اعتراف دعاؤں میں ہے اثر جائیں نہ عرش پر جو دعائیں تو کیا کریں اک دن کی بات ہو تو اسے بھول جائیں ہم نازل ہوں دل پہ روز بلائیں تو کیا کریں ظلمت بدوش ہے مری دنیائے عاشقی تاروں کی مشعلے نہ چرائیں ...

مزید پڑھیے

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا کیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیا غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھی دیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا ان کی خوشبو ہے فضاؤں میں پریشاں ہر سو ناز کرتی ہے ہوائے چمنستاں کیا کیا دشت غربت میں رلاتے ہیں ہمیں یاد آ کر اے وطن تیرے گل و ...

مزید پڑھیے

بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے

بہار آئی ہے مستانہ گھٹا کچھ اور کہتی ہے مگر ان شوخ نظروں کی حیا کچھ اور کہتی ہے رہائی کی خبر کس نے اڑائی صحن گلشن میں اسیران قفس سے تو صبا کچھ اور کہتی ہے بہت خوش ہے دل ناداں ہوائے کوے جاناں میں مگر ہم سے زمانے کی ہوا کچھ اور کہتی ہے تو میرے دل کی سن آغوش بن کر کہہ رہا ہے کچھ تری ...

مزید پڑھیے

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے کیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئے وہ دیکھنا کسی کا کنکھیوں سے بار بار وہ بار بار اس کا اثر کچھ نہ پوچھئے رو رو کے کس طرح سے کٹی رات کیا کہیں مر مر کے کیسے کی ہے سحر کچھ نہ پوچھئے اخترؔ دیار حسن میں پہنچے ہیں مر کے ہم کیوں کر ہوا ہے طے یہ ...

مزید پڑھیے

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی

اشک باری نہ مٹی سینہ فگاری نہ گئی لالہ کاری کسی صورت بھی ہماری نہ گئی کوچۂ حسن چھٹا تو ہوئے رسوائے شراب اپنی قسمت میں جو لکھی تھی وہ خواری نہ گئی ان کی مستانہ نگاہوں کا نہیں کوئی قصور ناصحو زندگی خود ہم سے سنواری نہ گئی چشم محزوں پہ نہ لہرائی وہ زلف شاداب یہ پری ہم سے بھی شیشے ...

مزید پڑھیے

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں

ہمارے ہاتھ میں کب ساغر شراب نہیں ہمارے قدموں پہ کس روز ماہتاب نہیں جہاں میں اب کوئی صورت پئے ثواب نہیں وہ مے کدے نہیں ساقی نہیں شراب نہیں شب بہار میں زلفوں سے کھیلنے والے ترے بغیر مجھے آرزوئے خواب نہیں چمن میں بلبلیں اور انجمن میں پروانے جہاں میں کون غم عشق سے خراب نہیں غم ...

مزید پڑھیے

نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے

نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے شراب پینے دے خانہ خراب پینے دے ابھی سے اپنی نصیحت کا زہر دے نہ مجھے ابھی تو پینے دے اور بے حساب پینے دے میں جانتا ہوں چھلکتا ہوا گناہ ہے یہ تو اس گناہ کو بے احتساب پینے دے پھر ایسا وقت کہاں ہم کہاں شراب کہاں طلسم دہر ہے نقش بر آب پینے دے مرے دماغ ...

مزید پڑھیے

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی ساری دنیا پر جوانی آ گئی آہ وہ اس کی نگاہ مے فروش جب بھی اٹھی مستیاں برسا گئی گیسوئے مشکیں میں وہ روئے حسیں ابر میں بجلی سی اک لہرا گئی عالم مستی کی توبہ الاماں پارسائی نشہ بن کر چھا گئی آہ اس کی بے نیازی کی نظر آرزو کیا پھول سی کمھلا گئی ساز دل ...

مزید پڑھیے

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں

محبت کی دنیا میں مشہور کر دوں مری سادہ دل تجھ کو مغرور کر دوں ترے دل کو ملنے کی خود آرزو ہو تجھے اس قدر غم سے رنجور کر دوں مجھے زندگی دور رکھتی ہے تجھ سے جو تو پاس ہو تو اسے دور کر دوں محبت کے اقرار سے شرم کب تک کبھی سامنا ہو تو مجبور کر دوں مرے دل میں ہے شعلۂ حسن رقصاں میں چاہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5377 سے 6203