قومی زبان

ایک شاعرہ کی شادی پر

اے کہ تھا انس تجھے عشق کے افسانوں سے زندگانی تری آباد تھی رومانوں سے شعر کی گود میں پلتی تھی جوانی تیری تیرے شعروں سے ابلتی تھی جوانی تیری رشک فردوس تھا ہر حسن بھرا خواب ترا ایک پامال کھلونا تھا یہ مہتاب ترا نکہت شعر سے مہکی ہوئی رہتی تھی سدا نشۂ فکر میں بہکی ہوئی رہتی تھی ...

مزید پڑھیے

انگوٹھی

چھپاؤں کیوں نہ دل میں خاتم گوہر نگار اس کی یہی لے دے کے میرے پاس ہے اک یادگار اس کی یہ تنہائی میں میرے لب تک آ کر مسکراتی ہے اور اپنی مالکہ کی طرح دل کو گدگداتی ہے قلم کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہر وقت رہتی ہے اور اس کے دست رنگیں کے فسانے مجھ سے کہتی ہے طلائی انگلیوں کا جب مجھے قصہ سناتی ...

مزید پڑھیے

شملے کی ریل گاڑی

سولن کی چوٹیوں سے جھنڈی ہلا رہی ہے غصے میں بے تحاشا سیٹی بجا رہی ہے دیکھو وہ آ رہی ہے شملے کی ریل گاڑی دو انجنوں کے منہ سے شعلے نکل رہے ہیں دو ناگ مل کے گویا دوزخ اگل رہے ہیں آنکھیں دکھا رہی ہے شملے کی ریل گاڑی سنسان گھاٹیوں پر اونچی پہاڑیوں میں پتھریلی چوٹیوں پر ٹیلوں میں جھاڑیوں ...

مزید پڑھیے

ایک حسن فروش سے

محبت آہ تیری یہ محبت رات بھر کی ہے تری رنگین خلوت کی لطافت رات بھر کی ہے ترے شاداب ہونٹوں کی عنایت رات بھر کی ہے ترے مستانہ بوسوں کی حلاوت رات بھر کی ہے مہ روشن ہے تو اور تیری طلعت رات بھر کی ہے گل شبو ہے تو اور تیری نکہت رات بھر کی ہے تو کیا جانے کہ سودائے محبت کس کو کہتے ہیں محبت ...

مزید پڑھیے

اے عشق ہمیں برباد نہ کر

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم تو اور ہمیں ناشاد نہ کر قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر یوں ظلم نہ کر بیداد نہ کر اے عشق ہمیں برباد نہ کر جس دن سے ملے ہیں دونوں کا سب چین گیا آرام گیا چہروں سے بہار صبح گئی آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

مجھے لے چل

مری سلمیٰؔ مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں! جہاں رنگیں بہشتیں کھیلتی ہیں سبزہ زاروں میں! جہاں حوروں کی زلفیں جھومتی ہیں شاخساروں میں جہاں پریوں کے نغمے گونجتے ہیں کوہساروں میں جوانی کی بہاریں تیرتی ہیں آبشاروں میں مری سلمیٰؔ! مجھے لے چل تو ان رنگیں بہاروں میں وہ مستانہ ...

مزید پڑھیے

جھولا

آیا ساون کا مہینہ نظر آیا جھولا دل کو بھایا مری آنکھوں میں سمایا جھولا سال بھر رہ کے بہشتوں کی فضا میں مہماں ابر کی گود میں بیٹھا ہوا آیا جھولا چولی دامن کا سا ہے ساتھ گھٹا کا اس کا اس طرف آئی گھٹا اس طرف آیا جھولا رت ہے جھولے کی نہ کیوں آج خدائی جھولے ننھی کلیوں کو ہواؤں نے جھلایا ...

مزید پڑھیے

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو اپنی اور میری جوانی کو نہ برباد کرو شرم رونے بھی نہ دے بیکلی سونے بھی نہ دے اس طرح تو مری راتوں کو نہ برباد کرو حد ہے پینے کی کہ خود پیر مغاں کہتا ہے اس بری طرح جوانی کو نہ برباد کرو یاد آتے ہو بہت دل سے بھلانے والو تم ہمیں یاد کرو تم ہمیں کیوں یاد ...

مزید پڑھیے

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو!

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو! تو ہی بتا دے ناز سے ایمان آرزو! آنسو نکل رہے ہیں تصور میں بن کے پھول شاداب ہو رہا ہے گلستان آرزو! ایمان و جاں نثار تری اک نگاہ پر تو جان آرزو ہے تو ایمان آرزو! ہونے کو ہے طلوع صباح شب وصال بجھنے کو ہے چراغ شبستان آرزو! اک وہ کہ آرزؤں پہ جیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے

زمان ہجر مٹے دور وصل یار آئے الٰہی اب تو خزاں جائے اور بہار آئے ستم ظریفیٔ فطرت یہ کیا معمہ ہے کہ جس کلی کو بھی سونگھوں میں بوئے یار آئے چمن کی ہر کلی آمادۂ تبسم ہے بہار بن کے مری جان نو بہار آئے ہیں تشنہ کام ہم ان بادلوں سے پوچھے کوئی کہاں بہار کی پریوں کے تخت اتار آئے ترے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5376 سے 6203