قومی زبان

کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے

کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے دل دھڑکتا ہے ماجرا کیا ہے اک محبت تھی مٹ چکی یا رب تیری دنیا میں اب دھرا کیا ہے دل میں لیتا ہے چٹکیاں کوئی ہائے اس درد کی دوا کیا ہے حوریں نیکوں میں بٹ چکی ہوں گی باغ رضواں میں اب رکھا کیا ہے اس کے عہد شباب میں جینا جینے والو تمہیں ہوا کیا ہے اب دوا ...

مزید پڑھیے

یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں

یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں کسی طرح بھی دل زار کو قرار نہیں شبوں کو خواب نہیں خواب کو قرار نہیں کہ زیب دوش وہ گیسوئے مشکبار نہیں کلی کلی میں سمائی ہے نکہت سلمیٰ شمیم حور ہے یہ بوئے نو بہار نہیں کہاں کہاں نہ ہوئے ماہ رو جدا مجھ سے کہاں کہاں مری امید کا مزار نہیں غموں کی فصل ...

مزید پڑھیے

بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا (ردیف .. ن)

بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا وہ صحن باغ نہیں سیر ماہتاب نہیں بسے ہوئے ہیں نگاہوں میں وہ حسیں کوچے ہر ایک ذرہ جہاں کم ز آفتاب نہیں وہ باغ و راغ کے دلچسپ و دل نشیں منظر کہ جن کے ہوتے ہوئے خلد مثل خواب نہیں وہ جوئبار رواں کا طرب فزا پانی شراب سے نہیں کچھ کم اگر شراب ...

مزید پڑھیے

نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر

نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر میری جاگی ہوئی راتوں کو سلا دے آ کر فکر فردا و غم دوش بھلا دے آ کر پھر اسی ناز سے دیوانہ بنا دے آ کر عشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کر دل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر کس قدر تیرہ و تاریک ہے دنیائے حیات جلوۂ حسن سے اک شمع جلا دے آ کر عشق کی چاندنی ...

مزید پڑھیے

سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے

سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے گنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلے شہر سلمیٰ ہے سر راہ گھٹائیں ہم راہ ساقیا آج تو دور مے و پیمانہ چلے اس طرح ریل کے ہم راہ رواں ہے بادل ساتھ جیسے کوئی اڑتا ہوا مے خانہ چلے شہر جاناں میں اترنے کی تھی ہم پر قدغن یوں چلے جیسے کوئی شہر سے بیگانہ ...

مزید پڑھیے

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں یہ شرمیلی نظر کہہ دے تو کچھ گستاخیاں کر لوں بہار آئی ہے بلبل درد دل کہتی ہے پھولوں سے کہو تو میں بھی اپنا درد دل تم سے بیاں کر لوں ہزاروں شوخ ارماں لے رہے ہیں چٹکیاں دل میں حیا ان کی اجازت دے تو کچھ بیباکیاں کر لوں کوئی صورت تو ہو دنیائے فانی ...

مزید پڑھیے

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا

نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا نہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا نہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیں نہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں نہ وہ بے خودی کا سماں رہا نہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں نہ وہ عاشقی کی کہانیاں نہ وہ غم نہ اشک فشانیاں نہ ...

مزید پڑھیے

دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں

دل دیوانہ و انداز بیباکانہ رکھتے ہیں گدائے مے کدہ ہیں وضع آزادانہ رکھتے ہیں مجھے مے خانہ تھراتا ہوا محسوس ہوتا ہے وہ میرے سامنے شرما کے جب پیمانہ رکھتے ہیں گھٹائیں بھی تو بہکی جا رہی ہیں ان اداؤں پر چمن میں جو قدم رکھتے ہیں وہ مستانہ رکھتے ہیں بظاہر ہم ہیں بلبل کی طرح مشہور ...

مزید پڑھیے

اے عشق کہیں لے چل

اے عشق کہیں لے چل اس پاپ کی بستی سے نفرت گہہ عالم سے لعنت گہہ ہستی سے ان نفس پرستوں سے اس نفس پرستی سے دور اور کہیں لے چل! اے عشق کہیں لے چل! ہم پریم پجاری ہیں تو پریم کنہیا ہے تو پریم کنہیا ہے یہ پریم کی نیا ہے یہ پریم کی نیا ہے تو اس کا کھویا ہے کچھ فکر نہیں لے چل! اے عشق کہیں لے ...

مزید پڑھیے

او دیس سے آنے والے بتا

او دیس سے آنے والا ہے بتا او دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یاران وطن آوارۂ غربت کو بھی سنا کس رنگ میں ہے کنعان وطن وہ باغ وطن فردوس وطن وہ سرو وطن ریحان وطن او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں مستانہ ہوائیں آتی ہیں کیا اب بھی وہاں کے پربت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5375 سے 6203