قومی زبان

یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے

یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے نہیں ہے پرائی ہمارے لیے ہے یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے ہمیں اس خدائی میں ہے کام کرنا بہت کام کرنا بڑا نام کرنا یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے سکھاتے ہیں یہ شہر آباد ہونا اور آپس میں مل جل کے دل شاد ہونا یہ ساری خدائی ہمارے لیے ہے یہ باغ اس لیے ہیں کہ پھرنے کو ...

مزید پڑھیے

وقت کی قدر

دعوت بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ چمن کی گود میں آ کر سما بھی جا سلمیٰ کلی کلی میں بہاریں بسا بھی جا سلمیٰ مجھے جنوں کا سبق پھر پڑھا بھی جا سلمیٰ بہار بیتنے والی ہے آ بھی جا سلمیٰ ملیں گے حشر میں مت کہہ یہ بار بار مجھے ہو کیسے حشر کے وعدے پہ اعتبار مجھے خدا کے دل پہ نہیں کوئی ...

مزید پڑھیے

دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا

دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا پھولوں سے کھیلتا ہوا دیوانہ آ گیا بادل کے اٹھتے ہی مے و پیمانہ آ گیا بجلی کے ساتھ ساتھ پری خانہ آ گیا مستوں نے اس ادا سے کیا رقص نو بہار پیمانہ کیا کہ وجد میں مے خانہ آ گیا اس چشم مئےفروش کی تاثیر کیا کہوں ہونٹوں تک آج آپ ہی پیمانہ آ گیا معلوم کس کو ...

مزید پڑھیے

دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا

دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا شہر جاناں میں ہمیں مسکن جاناں نہ ملا کوچہ گردی میں کٹیں شوق کی کتنی راتیں پھر بھی اس شمع تمنا کا شبستاں نہ ملا پوچھتے منزل سلمیٰ کی خبر ہم جس سے وادیٔ نجد میں ایسا کوئی انساں نہ ملا یوں تو ہر راہ گزر پر تھے ستارے رقصاں جس کی حسرت تھی مگر وہ مہ ...

مزید پڑھیے

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں زندگانی پھر کہاں ناداں جوانی پھر کہاں دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانئے عمر فانی ہی سہی یہ عمر فانی پھر کہاں آ کہ ہم بھی اک ترانہ جھوم کر گاتے چلیں اس چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھر کہاں ہے زمانہ عشق سلمیٰ میں گنوا دے زندگی یہ زمانہ پھر کہاں ...

مزید پڑھیے

مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے

مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہے سرور آرا شراب ارغوانی اب بھی ہوتی ہے مرے قدموں میں دنیا کی جوانی اب بھی ہوتی ہے کوئی جھونکا تو لاتی اے نسیم اطراف کنعاں تک سواد مصر میں عنبر فشانی اب بھی ہوتی ہے وہ شب کو مشک بو پردوں میں چھپ ...

مزید پڑھیے

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں محبت کریں خوش رہیں مسکرا دیں غرور اور ہمارا غرور محبت مہ و مہر کو ان کے در پر جھکا دیں جوانی ہو گر جاودانی تو یا رب تری سادہ دنیا کو جنت بنا دیں شب وصل کی بے خودی چھا رہی ہے کہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں بہاریں سمٹ آئیں کھل جائیں کلیاں جو ہم ...

مزید پڑھیے

نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی

نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی رہی تو میری کہانی ہی یادگار رہی وہی نظر ہے نظر جو بایں ہمہ پستی ستارہ گیر رہی کہکشاں شکار رہی شب بہار میں تاروں سے کھیلنے والے کسی کی آنکھ بھی شب بھر ستارہ بار رہی تمام عمر رہا گرچہ میں تہی پہلو بسی ہوئی مرے پہلو میں بوئے یار رہی کوئی عزیز نہ ...

مزید پڑھیے

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں بے کار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریں اک زہرہ وش ہے آنکھ کے پردوں میں جلوہ گر نظروں میں آسماں نہ سمائیں تو کیا کریں مانا کہ سب کے سامنے ملنے سے ہے حجاب لیکن وہ خواب میں بھی نہ آئیں تو کیا کریں ہم لاکھ قسمیں کھائیں نہ ملنے کی سب غلط وہ دور ہی ...

مزید پڑھیے

مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں

مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں لکھا ہے یہ خط میں کہ ہم آ رہے ہیں ٹھہر جا ذرا اور اے درد فرقت ہمارے تصور میں وہ آ رہے ہیں غم عاقبت ہے نہ فکر زمانہ پئے جا رہے ہیں جئے جا رہے ہیں نہیں شکوۂ تشنگی مے کشوں کو وہ آنکھوں سے مے خانے برسا رہے ہیں وہ رشک بہار آنے والا ہے اخترؔ کنول حسرتوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5374 سے 6203