برکھا رت
آسماں پر چھا رہا ہے ابر پاروں کا ہجوم! نو بہاروں کا ہجوم آہ یہ رنگین آوارہ نظاروں کا ہجوم کوہساروں کا ہجوم بدلیاں ہیں یا کسی کے بھولے بسرے خواب ہیں بے خود و بیتاب ہیں! یا ہوا پر تیرتا ہے رود باروں کا ہجوم آبشاروں کا ہجوم پھرتی ہیں آوارہ متوالی گھٹائیں اس طرح اور ہوائیں اس ...